سے دوسری دلیل کی طرف، قیاس سے اثر کی طرف یا حدیث سے آیت کی طرف جانے سے منع کیا؟(نہیں ) بلکہ ان کے تمام مناظرے اسی قسم کے تھے کہ جو کچھ ان کے دل میں آتا وہ سب کچھ ذکر کر دیتے اور سب اس میں غور وفکر کرتے۔
{8}…مناظرہ اس شخص سے کیا جائے جو علم سیکھنے میں مشغول ہو اور اس سے فائدہ حاصل ہونے کی امید ہو لیکن اب مناظرین غالباً بڑے بڑے علما کے ساتھ مناظرہ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اس ڈر سے کہ ان کی زبانوں پر حق جاری ہوجائے گا اور ان سے مناظرہ کرنا پسند کرتے ہیں جو علم میں کمتر ہوں تاکہ ان پر باطل کو رواج دیں ۔
شیطان کا کھلونا:
ان کے علاوہ بھی بہت سی باریک شرائط ہیں لیکن ان آٹھ شرائط میں جو بیان ہوا اس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون رضائے الٰہی کے لئے مناظرہ کرتا ہے اور کون اس کے سوا کسی اور مقصد کے لئے۔ مختصر یہ کہ یاد رکھو جو شیطان سے مناظرہ نہیں کرتا حالانکہ وہ اس کے دل پر مسلَّط اور اس کا سب سے بڑا دشمن اور اسے ہلاکت کی طرف بلاتا رہتا ہے، وہ اس کے علاوہ لوگوں سے ان مسائل میں مناظرہ کرتا ہے جن میں مجتہد راہِ راست پر ہوتا ہے یا اجر وثواب میں درست راہ پانے والے کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔ ایسا شخص شیطان کے لئے کھلونا اور مخلص لوگوں کے لئے عبرت ہے۔ اسی لئے شیطان اس پر خوش ہوتا ہے کہ اس نے اسے ان آفات کے اندھیروں میں غوطہ دے رکھا ہے جنہیں ہم ذکر کریں گے اور ان کی تفصیل بیان کریں گے۔ ہم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اچھی مدد وتوفیق کا سوال کرتے ہیں ۔
{…ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال…}
فرمانِ مصطفیٰ:
’’ہلاکت میں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچتے رہو،وہ یہ ہیں : (۱)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہرانا(۲)جادو کرنا (۳)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا(۴)یتیم کا مال کھانا (۵)سود کھانا (۶) میدان جہاد سے فرار ہونا اور (۷)سیدھی سادی، پاک دامن، مومنہ عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔‘‘ (صحیح البخاری،الحدیث:۲۷۶۶،ص۲۲۲)