مجھ پر لازم نہیں ، یہ بات تمہاری پہلی بات کے خلاف ہے لہٰذا قبول نہیں کی جائے گی‘‘ کیونکہ حق کی طرف رجوع کرنا باطل کو توڑ دیتا ہے اور اسے قبول کرنا واجب ہے جبکہ آپ دیکھتے ہیں کہ تمام مجلسیں جھگڑوں اور ایک دوسرے کا رد کرنے میں ختم ہوجاتی ہیں یہاں تک کہ جب کوئی دلیل دینے والا کسی اصل کی ایک علت ٹھہرا کر کلام کرتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ ’’تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے کہ اس حکم کی اصل میں علت یہی ہے؟‘‘ وہ کہتا ہے: ’’مجھے تو یہی معلوم ہوئی ہے اگر تمہیں اس سے زیادہ واضح اور بہتر علت معلوم ہے تو وہ بیان کرو تاکہ میں اس میں غور وفکر کروں ۔‘‘ تو معترض مصر رہتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’جو تم نے بیان کیا اس کے علاوہ اس کے کئی معانی ہیں جو میں جانتا ہوں لیکن میں وہ بیان نہیں کروں گا کیونکہ مجھ پر انہیں بیان کرنا لازم نہیں ۔‘‘ دلیل دینے والا کہتا ہے: ’’اس کے علاوہ جس علت کا تم دعویٰ کرتے ہو اسے بیان کرو۔‘‘ لیکن پھر بھی وہ اپنے موقف پر بضد رہتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’مجھ پر بیان کرنا لازم نہیں ۔‘‘ اس طرح کے سوالات سے مناظرے کی مجالس شور شرابے کی نذر ہوجاتی ہیں اور یہ بیچارہ نہیں جانتا کہ اس کا یہ کہناکہ ’’میں جانتا ہوں مگر بیان نہیں کروں گا کیونکہ مجھ پر لازم نہیں ۔‘‘ شریعت پر جھوٹ ہے کہ اگر وہ اس کے معنی نہیں جانتا اور محض مخالف کو عاجز کرنے کے لئے کہتا ہے تو وہ فاسق، کذاب ہے، اس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی اور ایسی بات کا دعویٰ کرکے جو اسے معلوم نہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی کو دعوت دی اور اگر سچا ہے تو شریعت کی بات جسے وہ جانتا ہے چھپانے کی وجہ سے فاسق ہوگیا جبکہ اس کے مسلمان بھائی نے اس سے پوچھا تاکہ وہ اسے سمجھے اور اس میں غور وفکر کرے، اگر وہ قوی ہے تو اس کی طرف رجوع کرے اور اگر ضعیف ہے تو اس کے سامنے اس کا ضعف بیان کرکے اسے جہالت کے اندھیرے سے نکال کر علم کی روشنی دے۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ دین کی جو بات وہ جانتا ہے جب اس سے پوچھی جائے تو اس پر بتانا واجب ہے تو پھر اس کی اس بات کہ مجھ پر لازم نہیں کا مطلب یہ ہوا کہ جھگڑے کی شریعت، جسے ہم نے خواہشات اور حیلہ سازی اور کلام کے ذریعے نیچا دکھانے کے طریقوں میں رغبت کی وجہ سے نکالا ہے اس کے مطابق لازم نہیں ورنہ شرعی طور پر یہ لازم ہے کیونکہ اسے بیان کرنے سے رکنے کے سبب وہ کاذب ہے یا فاسق۔ پس تم صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی مشاورتوں اور اسلاف کے مذاکروں کے متعلق تحقیق کرلو کیا وہ ایسے تھے؟ کیا ان میں سے کسی نے ایک دلیل