فرمایا: ’’تم نے ٹھیک کہا اور میں نے غلطی کی اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے۔‘‘(۱)
حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وہ بات بتائی جو ان سے رہ گئی تھی تو انہوں نے فرمایا: ’’جب تم میں یہ بڑے عالم موجود ہوں تو مجھ سے نہ پوچھا کرو۔‘‘(۲)
واقعہ یوں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو راہِ خدا میں جہاد کرتے ہوئے مارا جائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا: ’’ وہ جنتی ہے۔‘‘ اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کوفہ کے امیر تھے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہوکر فرمایا: ’’دوبارہ پوچھو شاید امیر سوال نہیں سمجھے۔‘‘ لوگوں نے دوبارہ پوچھا مگر امیرکوفہ نے وہی جواب دیا تو حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’میں کہتا ہوں ، اگر وہ مارا گیا اور حق کو پہنچا تو جنتی ہے۔‘‘ امیرکوفہ حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ حق وہ ہے جو انہوں نے کہا۔‘‘(۳)
طالب حق کا انصاف ایسا ہوتا ہے۔ اگر اس زمانے میں کسی ادنیٰ فقیہ کو بھی اس طرح کہا جائے تو وہ اس کا انکار کرے گا اور اسے بعید سمجھے گا اور کہے گا کہ ’’ یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ اگر وہ حق کو پہنچا‘‘ کیونکہ یہ تو سب کو معلوم ہے۔ پس تم آج کل کے مناظرین کا حال دیکھو کہ اگر حق کسی مخالف کی زبان سے ظاہر ہوجائے تو کس طرح اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور کیسے وہ اس کی وجہ سے شرمندہ ہوتا ہے۔ وہ اس کا انکار کرنے کی مکمل کوشش کرتا ہے اور طویل عرصے تک اس کی برائی کرتا ہے پھر حق پر غور وفکر کرنے پر مدد کرنے میں اپنے آپ کو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے ساتھ تشبیہ دینے میں حیا بھی نہیں کرتا۔
{7}…وہ مناظرے میں شریک دوسرے شخص کو ایک دلیل سے دوسری دلیل اور ایک اعتراض سے دوسرے اعتراض کی طرف جانے سے منع نہ کرے۔ اسلاف کے مناظرے ایسے ہی ہوتے تھے ۔ اپنی گفتگو سے جھگڑے کی تمام نئی باریکیوں کو خارج کردے خواہ وہ اس کے حق میں ہوں یا اس کے خلاف۔ مثلاً اس کا یہ کہنا کہ ’’اسے بیان کرنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم،الحدیث:۵۸۹،ص۱۷۹۔
2…الموطا للامام مالک، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی الرضاعۃ بعد الکبر، الحدیث:۱۳۲۶، ج۲، ص۱۴۷۔
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۵تا۲۵۶۔