Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
160 - 1087
{5}…وہ تنہائی میں مناظرہ کرنے کو، محفل میں ، امرا اور بادشاہوں کے سامنے مناظرہ کرنے سے زیادہ پسند اور اہم جانے کیونکہ تنہائی میں ذہن مجتمع ہوتا، ذہن وفکر کی صفائی جلد ہوجاتی اور حق کو جلد پایا جاسکتا ہے جبکہ مجمع میں ریاکاری کے اسباب متحرک ہوتے ہیں اور ہر ایک اپنی برتری کا حریص ہوتا ہے حق پر ہو چاہے باطل پر اور آپ جانتے ہیں کہ محفلوں اور مجمعوں میں ان کی خواہش رضائے الٰہی نہیں ہوتی اور یہ کہ ان میں سے کوئی ایک طویل مدت تک اپنے رفیق کے ساتھ تنہا ہوتا ہے مگر اس سے بات نہیں کرتا۔ کبھی اس سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب نہیں دیتا۔ جب کسی عہدے دار کے سامنے ہو یا لوگوں کا اجتماع ہو تو وہ تقریر میں اپنی انفرادیت منوانے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتا۔
{6}…طلب ِ حق میں مناظر کا حال اس شخص کی طرح ہو جو گمشدہ چیز کو تلاش کررہا ہو، وہ اس میں فرق نہیں کرتا کہ گمشدہ چیز براہِ راست اسے ملے یا اس کے معاون ومددگار کے ذریعے ملے۔ وہ اپنے رفیق(یعنی مدمقابل) کو مددگار سمجھتا ہے مخالف نہیں اور اگر اس کا رفیق اسے اس کی غلطی بتائے اور اس کے سامنے حق کو واضح کرے تو وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے جیسا کہ اگر وہ اپنی گمشدہ چیز کی تلاش میں ایک راستے کو اختیار کرے تو اس کا رفیق اسے بتائے کہ اس کی گمشدہ چیز دوسرے راستے میں ہے تو وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے، اس کی برائی نہیں کرتا بلکہ اس کی عزت کرتا اور اس سے خوش ہوتا ہے۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی مشاورتیں ایسی ہی تھیں  جیسا کہ،
طالب حق ایسا ہوتا ہے:
	ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کے مجمع میں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک عورت نے آپ کی کسی بات کا انکار کیا اور حق بات پر آگاہ کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’عورت نے درست کہا اور مرد سے خطا ہوگئی۔‘‘(۱)
	ایک شخص نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے سوال کیا، آپ نے جواب دیا تو اس نے عرض کی: ’’یا امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ! یوں نہیں بلکہ اس طرح ہے۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم، فصل فی الانصاف فی العلم،الحدیث:۵۸۸،ص۱۷۹۔