بکہ مناظر بعض اوقات اپنی مجلس مناظرہ میں کسی کو ریشم پہنے یا ریشمی بچھونے پر بیٹھے دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے اور اس مسئلہ میں مناظرہ کرتا ہے جس کے کبھی بھی واقع ہونے کا اتفاق نہ ہو اور اگر وہ واقع ہو بھی سہی تو فقہا کی ایک جماعت اس کے لئے موجود ہو۔ اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ فرضِ کفایہ سے اس کا مقصد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرنا ہے جبکہ حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ کسی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر کو کب چھوڑ دیا جائے گا؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے نیک لوگوں میں مداہنت(خوشامد) کا ظہور ہوگا اور بدوں میں بے حیائی پائی جائے گی اور حکومت تمہارے چھوٹوں کے پاس چلی جائے گی جبکہ فقہ ذلیل لوگوں کے سپرد ہوجائے گی۔‘‘(۱)
{3}…مناظر مجتہد ہو جو اپنی رائے سے فتویٰ دے مذہب ِ شافعی یا مذہب ِ حنفی وغیرہ پر فتویٰ نہ دے حتی کہ اگر اسے حق مذہب ِ حنفی میں معلوم ہو تو مذہب ِ شافعی کے موافق رائے کو ترک کردے اور جو اس پر ظاہر ہوا اس کے مطابق فتویٰ دے جس طرح صحابۂ کرام اور ائمہ دین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کیاکرتے تھے۔
{4}…مناظرہ اسی مسئلہ میں کرے جو واقع ہوچکا ہو یا غالب گمان ہو کہ عنقریب واقع ہوگا کیونکہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نئے مسائل ہی میں مشورہ کرتے تھے یا ان میں جو اکثر واقع ہوتے جیسے وراثت کے مسائل اور آپ دیکھو گے کہ اب مناظرین ان مسائل میں تحقیق کا اہتمام نہیں کرتے جن میں عوام مبتلا ہو اور فتوے کی حاجت ہو بلکہ ایسے مسائل ڈھونڈتے ہیں جن میں کسی طرح بحث مباحثے کی گنجائش زیادہ ہو اور بعض اوقات بکثرت واقع ہونے والے مسائل کو چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا تعلق حدیث سے ہے یا کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ متفقہ ہے، اختلافی مسائل میں سے نہیں تو کتنے تعجب کی بات ہے کہ مقصود طلب ِ حق ہے تو وہ مسئلے کویہ کہہ کر کیوں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ حدیث سے متعلق ہے حالانکہ حق احادیث ہی سے حاصل ہوتا ہے یا اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ اختلافی نہیں کہ ہم اس میں طویل کلام کریں حالانکہ طلب ِ حق میں مقصود یہ ہوتا ہے کہ مختصر کلام کرکے جلد مقصد کو پہنچا جائے، لمبا کلام نہ کیا جائے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن ابن ماجہ،کتاب الفتن،باب قولہ تعالٰی: یاایھا الذین آمنوا علیکم انفسکم، الحدیث:۴۰۱۵، ج۴، ص۳۶۵۔