کے ذمے فرضِ عین ہوں اور وہ فرضِ کفایہ میں مشغول ہوجائے اور یہ دعویٰ کرے کہ اس کا مقصد طلب ِحق ہے تو وہ بڑا جھوٹا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خود نماز کو ترک کرکے کپڑوں کو حاصل کرنے اور بننے میں لگا ہو اور کہے کہ میرا مقصد یہ ہے کہ میں اس شخص کے ستر کو ڈھانپوں جس کے پاس لباس نہیں اور وہ برہنہ نماز پڑھتا ہے کیونکہ کبھی ایسا اتفاق ہوجاتا ہے اور اس کا وقوع ممکن ہے جیسا کہ فقیہ سمجھتا ہے کہ ان نوادرات کا وقوع ممکن ہے جن کے اختلاف میں وہ بحث کرتا ہے۔ مناظرہ میں مشغول ہونے والے ان امور کو چھوڑ دیتے ہیں جو بالاتفاق فرضِ عین ہیں اور جس شخص پر فوراً امانت لوٹانا واجب ہو اور وہ نماز شروع کردے جو عمدہ عبادات میں سے ہے تو اس نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی۔ لہٰذامعلوم ہو اکہ آدمی کے مطیع وفرمانبردار ہونے کے لئے یہ کافی نہیں کہ جو عمل وہ کرے وہ عبادت وطاعت ہو جب تک کہ وہ اس میں وقت، شرائط اور ترتیب کا لحاظ نہ کرے۔
{2}…اس کے سامنے مناظرے سے اہم کوئی دوسرا فرضِ کفایہ نہ ہو کیونکہ جو اہم کام کے ہوتے ہوئے اس کے علاوہ کوئی کام کرے گا وہ اپنے اس عمل میں گنہگار ہوگا۔ اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیاسے لوگوں کا ایک گروہ دیکھے کہ پیاس کی وجہ سے مرنے کے قریب ہیں اور لوگوں نے انہیں نظرانداز کردیا ہے جبکہ یہ انہیں پانی پلا کر ان کی زندگی بچانے پر قادر ہے مگر پچھنے لگانے کا طریقہ سیکھنے میں مشغول ہوجائے اور کہے کہ یہ فرضِ کفایہ میں سے ہے اگر شہر میں کوئی بھی پچھنے لگانے والا نہیں ہوگا تو لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور اگر اس سے کہا جائے کہ شہر میں پچھنے لگانے والوں کا ایک گروہ موجود ہے اور وہ کافی ہیں تو وہ کہے کہ اس بات سے اس فعل کا فرضِ کفایہ ہونا ختم تو نہیں ہوگیا۔
الغرض جو اس کام کو کرے اور مسلمانوں کے پیاسے گروہ کو پانی پلانے جیسے اہم کام کو چھوڑ دے تو اس کا حال اس شخص کی طرح ہے جو مناظرہ میں مشغول ہوتا ہے حالانکہ شہر میں کئی فرضِ کفایہ ایسے ہیں جنہیں چھوڑ دیا گیا ہے اور انہیں کوئی قائم کرنے والا نہیں ۔ مثال کے طور پر فتویٰ جسے ایک جماعت قائم کئے ہوئے ہے اور شہر میں کئی ایسے فرضِ کفایہ ہیں جنہیں نظرانداز کردیا گیا ہے لیکن فقہا ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ان میں سے زیادہ قریب طب ہے کہ اکثر شہروں میں مسلمان طبیب موجود نہیں کہ طبی امور میں جن کی گواہی شرعاً مقبول ہو اور کوئی بھی فقیہ اس میں مشغول ہونے کو تیار نہیں اس طرح اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر(یعنی نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا) بھی فرضِ کفایہ ہے