Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
157 - 1087
 اصول تیار کرنا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کثیر کتابیں لکھیں ، اجتہادات کئے اور مناظرے کی اقسام وتصانیف کو مرتب کیا، وہ اب(یعنی امام غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کے دور) تک اسی حالت پرہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے بعد کے زمانوں میں کیا حالات ہوں گے۔ اختلافی مسائل اور مناظروں میں لوگوں کے مشغول ہونے کی یہی وجہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں اور اگر دنیاداروں کے دل کسی دوسرے امام کے ساتھ اختلاف یا کسی دوسرے علم کی طرف مائل ہوتے ہیں تو لوگ بھی ان کے ساتھ اسی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور یہ بہانہ کرنے سے باز نہیں آتے کہ جس میں وہ مشغول ہیں وہ علمِ دین ہے اور ان کا مقصد صرف اللّٰہ ربُّ العٰلَمِیْن عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرنا ہے۔
پہلی فصل:   مناظروں کو صحابہ کے مشوروں اوراسلاف کے مذاکروں 
  سے مشابہت دینا دھوکا ہے
	جان لو! یہ لوگ عوام کو رفتہ رفتہ اس طرف لے جانا چاہتے ہیں کہ مناظروں سے ہمارا مقصد حق کے بارے میں بحث ومباحثہ کرنا ہے تا کہ وہ واضح ہو کیونکہ حق مطلوب ہے اور علم میں غور وفکر کرنے پر ایک دوسرے کی مدد کرنا نیز کئی آرا کا متفق ہوجانا مفید ہے۔ مشوروں میں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی عادت بھی یہی تھی جیسا کہ دادا کی موجودگی میں بھائی وں کے (وراثت سے) محروم ہونے ، شراب پینے کی حد ، حاکم اگر خطا کرے تو اس پر تاوان واجب ہونے ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے خوف سے ایک عورت کاحمل ضائع ہو جانے اور وراثت کے مسائل میں صحابہ کے باہم مشورے منقول ہیں ۔ نیز جس طرح حضرت سیِّدُنا امام شافعی، حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل، حضرت سیِّدُنا امام محمد بن حسن، حضرت سیِّدُنا امام مالک اور حضرت سیِّدُنا امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن وغیرہ علما سے منقول ہے۔
طلب حق کے لئے مناظرے کی شرائط وعلامات:
	جو میں بیان کروں گا اس سے تمہیں اس دھوکے کی خبر ہوجائے گی اور وہ یہ ہے کہ طلب حق پر تعاون کرنا دینی کام ہے مگر اس کی آٹھ شرائط وعلامات ہیں :
{1}…مناظرہ چونکہ فرضِ کفایہ ہے اس لئے جو فرضِ عین علوم کو حاصل نہ کرچکا ہو وہ اس میں مشغول نہ ہو اور جس