Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
156 - 1087
طالب مطلوب اور معزز ذلیل ہو گئے:
	ان میں سے کئی تو محروم رہے اور کئی کامیاب ہوگئے لیکن جو کامیاب ہوئے وہ بھی مانگنے اور طفیلی ہونے کی ذلت ورسوائی سے دامن نہ بچا سکے۔ بس پھر فقہا جو پہلے مطلوب تھے، اب طالب بن گئے۔ پہلے حکمرانوں سے منہ موڑکر معزز تھے اب ان کی طرف متوجہ ہوکر ذلیل ہوگئے۔ مگر یہ کہ ہر زمانے میں ایسے علمائے دین ہوئے ہیں جنہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بچنے کی توفیق مرحمت فرمائی ہے۔
اختلافی مسائل و مناظروں میں مشغول ہونے کی وجہ:
	الغرض اس زمانے میں لوگوں کی زیادہ تر توجہ فتاویٰ اور مقدمات کے فیصلوں کے علم کی طرف رہی کیونکہ حکمرانوں کو اس کی سخت حاجت تھی پھر ان کے بعد کچھ اُمرا اور رئیس ایسے ظاہر ہوئے جو عقائد کے قواعد میں لوگوں کی گفتگو سنتے۔ ان کے دل عقائد کے دلائل سننے کی طرف مائل ہوئے اورعلمِ کلام میں مناظرہ و مجادلہ کی طرف ان کی رغبت غالب ہوگئی تو لوگ علمِ کلام میں منہمک ہوگئے۔ اس میں کثیر کتابیں لکھ ڈالیں ، مناظرے کے طریقے مرتب کردئیے اور گفتگو میں مخالف کی بات توڑنے کے گُر نکالے اور گمان یہ کیا کہ ان کا مقصد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی حمایت،  سنت کی حفاظت اور بدعت کی بیخ کنی ہے جیسا کہ ان سے پہلوں کا گمان تھا کہ ہمارا فتاویٰ میں مشغول ہونے اور احکامِ مسلمین کا کفیل ہونے کا مقصد لوگوں کی خیرخواہی کرنا اور ان پر شفقت کرنا ہے۔ پھر ان کے بعد وہ لوگ ظاہر ہوئے جنہوں نے علمِ کلام میں غور وخوض کرنے اور اس میں مناظرے کا دروازہ کھولنے کو درست نہ سمجھا کیونکہ اس کے سبب لوگوں میں سخت تعصُّب اور جھگڑوں کی فضا قائم ہوگئی تھی اور نوبت خونریزی اور شہروں کی بربادی تک آپہنچی تھی، اس لئے ان کے دل فقہ میں مناظرہ کرنے اور خاص طور پر فقہ شافعی وفقہ حنفی میں کس کی بات اَولیٰ ہے، اسے بیان کرنے کی طرف مائل ہوگئے تو لوگ علمِ کلام اور فنونِ علم کو چھوڑکر بالخصوص حضرت سیِّدُنا امام شافعی اور حضرت سیِّدُنا امام اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا کے مابین اختلافی مسائل پر توجُّہ دینے لگے اور حضرت سیِّدُنا امام مالک، حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری ، حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن وغیرہ ائمہ کے درمیان اختلافی مسائل کو نظر انداز کردیا اور دعویٰ یہ کیا کہ ان کا مقصد شریعت کی باریکیوں کا استنباط، مذہب کی علتوں کو ثابت کرنا اور فتاویٰ کے