باب نمبر4: لوگوں کے اختلاف میں پڑنے کی وجہ،
مناظرہ کی آفات کی تفصیل اور اس
کے جواز کی شرائط
مقدمہ: لوگ اختلافات کی طرف کیوں مائل ہوئے؟
جان لیجئے ! حضورنبی ٔ اکرم، رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد خلافت کا سہرا خلفائے راشدین مہدیین کے سر سجا۔ یہ حضرات عَالِم بِاللّٰہ تھے۔ اَحکاماتِ الٰہیہ کو سمجھتے تھے۔ مقدَّمات کے فیصلوں میں فتاویٰ کے ماہر تھے۔ فقہا سے کم ہی مدد لیتے تھے سوائے ان واقعات کے جن میں مشورے کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ اس لئے علما علمِ آخرت کے لئے فارغ ہوتے اور محض اس میں مشغول رہتے تھے ۔ یہ حضرات فتاویٰ اور لوگوں کے دنیوی احکام کو دوسروں کی طرف ٹال دیتے اور مکمل طور پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ رہتے جیسا کہ ان کی سیرتوں میں منقول ہے۔ پھر ان کے بعدجب حکومت نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں آئی جو فتاویٰ اور احکام میں غیرمستقل تھے تو وہ فقہا سے مدد لینے اور احکامات جاری کرنے میں ان سے فتوے لینے کے لئے ہر وقت ان کو اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور ہو گئے۔ اس وقت کچھ تابعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام موجود تھے جو پہلے کے طور طریقوں پر کاربند تھے۔ خالص دین سے وابستہ تھے۔ ہمیشہ علمائے سلف کے نقشِ قدم پر چلتے تھے۔ جب انہیں طلب کیا جاتا تو بھاگ جاتے اور رُخ پھیر لیتے جس کی وجہ سے حکمرانوں کی مجبوری بن گئی کہ وہ انہیں طلب کریں اور قضا ودیگر حکومتی عہدوں کے لئے اصرار کریں ۔ جب اس زمانے کے لوگوں نے دیکھا کہ علما کا اس قدر مقام ومرتبہ ہے اور حکمرانوں کا طبقہ ان کی طرف متوجہ ہے حالانکہ وہ ان سے اعراض کرتے ہیں تو وہ حکمرانوں کی طرف سے عزت اور مقام ومرتبہ پانے کے لئے طلب ِعلم میں مشغول ہوگئے۔ علمِ فتاویٰ میں منہمک ہوگئے اور اپنے آپ کو حکمرانوں کے سامنے پیش کرکے انہیں اپنا تعارف کروایا اور ان سے انعامات اور عہدوں کے مطالبات کئے۔ چنانچہ،