Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
153 - 1087
علما نے تعصب کو عادت و آلہ کار بنا لیا:
	اگر علما تعصب سے بالا تر ہوکر حقارت کی نظر پھیر کر تنہائی میں پیار ومحبت اور خیر خواہی کرتے ہوئے انہیں  سمجھاتے تو ضرور کامیابی پاتے۔ لیکن چونکہ لوگوں کی پیروی کے بغیر مقام ومرتبہ نہیں ملتا اور جب تک مخالف پر لعن طعن نہ کی جائے ، اسے برابھلا نہ کہا جائے تب تک لوگ پیروی کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اس لئے انہوں نے تعصب کو اپنی عادت اور آلہ کار بنا لیا اور اس کا نام دین کی حفاظت اور مسلمانوں کی حمایت رکھ دیا حالانکہ درحقیقت یہ لوگوں کی بربادی اور دلوں میں بدعت کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ بہرحال جو اختلافات ان آخری زمانوں میں پیدا ہوگئے ہیں اور ان میں ایسی تحریرات، تصنیفات اور مناظرے نکلے ہیں جن کی مثال اسلاف میں نہیں ملتی تم ان کے گرد گھومنے سے بچو اور ان سے ایسے بچو جیسے زہرِ قاتل سے بچتے ہیں کیونکہ یہ لاعلاج مرض ہے اور اسی نے فقہا کو ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے اور باہم فخر کرنے پر لگا دیا ہے جیسا کہ عنقریب اس کی ہلاکتوں اور آفتوں کا بیان آئے گا۔ المختصر یہ کہ دانش مندوں کے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ تم سمجھو دنیا میں تمہارا نفس صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے۔ تمہارے سامنے موت، ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری، حساب وکتاب اور جنت ودوزخ ہیں پھر غور کرو اور سوچو کہ تمہارے سامنے جو چیزیں ہیں ان میں سے کون سی تمہارے لئے مددگار ہے، اس کے علاوہ سب چھوڑدو تو تم سلامتی پر ہو۔
صرف دو رکعت نے فائدہ دیا:
	کسی بزرگ نے ایک عالم کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: ’’ جن علوم میں تم جھگڑے اور مناظرے کرتے تھے ان کا کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اس پر پھونک ماری اور کہا: ’’سب کچھ خاک ہوکر اُڑگیا اور مجھے صرف ان دورکعتوں سے فائدہ ہوا جو میں نے رات کی تنہائی میں پڑھی تھیں  ۔‘‘(۱)
 	حدیث ِ مبارکہ میں ہے: ’’کوئی بھی قوم ہدایت کے بعد گمراہ نہیں ہوتی مگر جھگڑنے والے۔‘‘ (۲)
 	پھر یہ آیات ِ مقدسہ تلاوت کیں :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۲۹۔ 
2…سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الزخرف، الحدیث:۳۲۶۴، ج۵، ص۱۷۰۔