فقہ میں بقدر کفایت، متوسط اور اعلیٰ:
فقہ میں بقدرِ کفایت اتنی ہے جس پر’’مختصر مزنی‘‘ مشتمل ہے اور اسے ہم نے خُلَاصَۃُ الْمُخْتَصَر میں مرتب کیا ہے۔ متوسط درجہ یہ ہے کہ اس کتاب سے تین گنا زائد ہو یعنی اتنی مقدار جتنی ہم نے’’اَلْوَسِیْط‘‘ میں لکھی ہے اور درجۂ کمال وہ ہے جسے ہم نے’’البسیط ‘‘میں لکھا ہے اور اس کے علاوہ بڑی بڑی کتابیں ۔
علم کلام کا مقصود:
علمِ کلام کا مقصد صرف سلف صالحین سے منقول عقائد ِ اہل سنت کی حفاظت ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ امور کے حقائق کا کشف ہے لیکن یہ طریقہ کشف کے بغیر ہے۔ سنت کی حفاظت بطریقِ اختصار عقائد کی مختصر سی کتاب سے ہوسکتی ہے اور یہ مقدار وہ ہے جسے ہم نے اسی کتاب میں ’’قواعد العقائد‘‘ کے تحت بیان کیا ہے۔ متوسط درجہ 100ورق کی مقدار ہے، اسے ہم نے اپنی کتاب’’الاقتصاد فی الاعتقاد‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اس علم کی حاجت اس لئے ہے کہ بدعتی سے مناظرہ کیا جائے اور ایسی باتوں سے اس کی بدعت کا مقابلہ کیا جائے جو بدعت کو توڑ دیں اور عام آدمی کے دل سے اسے نکال دیں یہ بات صرف عوام کو نفع بخش ہے جبکہ وہ تعصُّب میں شدَّت کو نہ پہنچے ہوں اور بدعتی جب مناظرہ سیکھ لیتا ہے اگرچہ کم ہو تو اسے علمِ کلام بہت کم نفع دیتا ہے، اگر تم اسے ساکت ولاجواب بھی کردو پھر بھی وہ اپنا مذہب نہیں چھوڑے گا کیونکہ وہ اسے اپنا قصور ٹھہرائے گا اور فرض کرے گا کہ کسی دوسرے کے پاس اس کا جواب ہے جس سے وہ عاجز آگیا ہے اور تم نے قوتِ مناظرہ سے اس کو مغالطہ میں ڈال دیا ہے۔ جبکہ عام آدمی کو اگر اس طرح کے مناظرے کے ذریعے حق سے پھیر دیا جائے تو اسی کی مثل مناظرے سے اسے واپس لایا جاسکتا ہے جب تک کہ وہ تعصب میں متشدد نہ ہو اور اگر ان کا تعصب حد سے بڑھ جائے تو پھر ان سے ناامیدی ہوجاتی ہے کیونکہ تعصب کی وجہ سے عقائد دلوں میں پختہ ہوجاتے ہیں اور یہ برے علما کی آفات میں سے ہے کیونکہ وہ حق کے لئے سخت تعصب سے کام لیتے اور مخالفین کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں مقابلے اور جوابی کارروائی کا جذبہ جوش مارتا ہے اور وہ باطل کی مدد کرنے پر زیادہ آمادہ ہوجاتے ہیں اور ان کی طرف جو منسوب کیا جاتا ہے وہ اس پر قائم رہنے میں زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں ۔