سیکھو۔ اسی طرح حدیث میں بھی یہی ترتیب ہے۔ اس کے بعد فروع سیکھو یعنی علمِ فقہ سے مذاہب کا علم، نہ کہ اختلافی مسائل کا علم پھر اصولِ فقہ سیکھو۔ اسی طرح بقیہ علوم حاصل کرتے رہو جہاں تک عمر میں گنجائش ہو اور وقت ساتھ دے، مگر کسی ایک فن میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ساری عمر مت لگاؤ کیونکہ علوم زیادہ ہیں اور عمر کم اور یہ علوم آلات ومقدمات ہیں ، اپنی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر کی وجہ سے مطلوب ہیں اور ہر وہ چیز جو غیر کی وجہ سے مطلوب ہو اس میں اصل مقصود کو بھول جانا اور آلات کی کثرت کرنا مناسب نہیں ۔ لہٰذا مروجہ علمِ لغت سے اتنا سیکھ لو کہ عربی سمجھ اور بول سکو اور لغت نادرہ میں سے صرف قرآنِ حکیم اور احادیث کے غریب الفاظ جان لو پھر اس کی زیادہ گہرائی میں مت جاؤ۔ علمِ نحو سے بس اتنا سیکھو جتنے کا تعلق قرآن وحدیث سے ہے۔ یاد رکھو! ہر علم کے تین درجے ہیں : بقدرِ ضرورت، متوسط اور درجۂ کمال۔ ہم حدیث وتفسیر، فقہ اور کلام میں ان تینوں درجوں کو بیان کردیتے ہیں تاکہ دوسرے علوم کو تم اسی پر قیاس کرلو۔ چنانچہ،
تفسیر میں بقدر کفایت، متوسط اور اعلیٰ:
تفسیر میں بقدرِ کفایت مقدار یہ ہے کہ قرآنِ پاک سے دگنی ہو جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام علی واحدی نیشاپوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی تصنیف ’’الوجیز‘‘ متوسط درجہ یہ ہے کہ اس سے تین گنا ہو جیسا کہ تفسیر’’ الوسیط ‘‘ اور درجۂ کمال اس سے زائد ہے۔ اس کی حاجت نہیں اور نہ ہی ساری عمر اس کی کوئی حد ہوگی۔
حدیث میں بقدر کفایت، متوسط اور اعلیٰ:
حدیث میں بقدرِ کفایت یہ ہے کہ صحیحین (یعنی بخاری ومسلم) کے مضامین متن حدیث سے باخبر شخص سے نسخے کی تصحیح کے ساتھ پڑھ لو۔ راویوں کے نام یاد کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ کام تم سے پہلے لوگ کرچکے ہیں تمہیں ان کی کتب پر اعتماد کرنا چاہئے، بخاری ومسلم کا متن زبانی یاد کرنا بھی ضروری نہیں بلکہ ان کے متون اتنے سیکھ لو کہ حاجت پڑے تو ضرورت کی بات ان سے تلاش کرسکو۔ متوسط درجہ یہ ہے کہ صحیحین کے علاوہ دیگر کتب ِ حدیث میں موجود صحیح احادیث کو بھی سیکھو اور درجۂ کمال یہ ہے کہ ہر ضعیف، قوی، صحیح اور معلل حدیث کو سیکھو، نقلِ حدیث کے طرقِ کثیرہ(یعنی کئی اَسناد)، راویوں کے حالات، ان کے نام اور اوصاف کی پہچان حاصل کرو۔