دیتے ہیں جبکہ علمائے آخرت باطن کی صفائی کا مشورہ دیتے اور فاسد مواد کو نکال کر دل سے خرابیوں کو جڑ سے اُکھاڑ دینے کا حکم دیتے ہیں ۔
باطنی کے بجائے ظاہری اعمال اختیار کرنے کی وجہ:
اکثر لوگ دلوں کی صفائی کرنے کے بجائے ظاہری اعمال کی طرف اس لئے بھاگتے ہیں کہ ظاہری اعمال آسان ہیں اور دل کے اعمال مشکل جیسے کڑوی دوائی پینے سے گھبرانے والا ظاہری لیپ کو اختیار کرتا ہے، وہ لیپ کرنے میں تھکتا رہتا اور مواد بڑھاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے بیماریاں دُگنی ہوجاتی ہیں ۔ لہٰذا اگر تم آخرت کے طالب اور نجات کے خواہش مند ہو اور ہمیشہ کی بربادی سے بچنا چاہتے ہو تو باطنی بیماریوں اور ان کے علاج کا علم سیکھنے میں مشغول ہو جاؤ۔ ہم نے مہلکات کے باب میں انہیں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہ علم ضرور تمہیں ان پسندیدہ مقامات تک لے جائے گا جو منجیات کے باب میں ذکر کئے گئے ہیں کیونکہ جب دل بری صفات سے خالی ہوگا تو اچھی صفات سے بھرجائے گا جیسا کہ زمین کو جب گھاس سے صاف کیا جائے تو اس میں طرح طرح کی فصلیں اور پھول اُگتے ہیں اور اگر صاف نہ کیا جائے تو یہ چیزیں پیدا نہیں ہوتیں ۔
سب سے بڑا احمق:
تم فرضِ کفایہ علوم کو سیکھنے میں مشغول نہ ہو بالخصوص جب انہیں قائم کرنے والا لوگوں میں کوئی موجود ہو کیونکہ دوسرے کی اصلاح کرنے میں خود کو ہلاک کرنے والا بیوقوف ہے۔اس سے بڑا احمق کون ہوگا کہ جس کے کپڑوں میں سانپ اور بچھو گھس گئے ہوں اور اسے مار ڈالنے کے درپے ہوں مگر وہ پنکھا ڈھونڈنے میں مصروف ہو تاکہ اس کے ذریعے دوسروں سے مکھیاں دور کرے جبکہ جسم سے چپکے ہوئے سانپ بچھو اس کے درپے ہوں اور وہ لوگ اس کے کام آئیں نہ اسے ان سے بچائیں ۔ اگر تم اپنے نفس کو پاک کرنے سے فراغت پاؤ اور ظاہری وباطنی گناہوں کو ترک کرنے پر قادر ہوجاؤ، یہ تمہاری دائمی عادت بن جائے، تمہارے لئے ایسا کرنا آسان ہوجائے اور یہ بات کچھ بعید بھی نہیں تو پھر تم فرضِ کفایہ علوم کے حصول میں مشغول ہوجاؤ لیکن اس میں درجہ بندی کا لحاظ رکھو۔کِتَابُ اللّٰہ سے شروع کرو پھر حدیث ِ نبوی پھر علمِ تفسیر اور باقی قرآنِ پاک کے علوم جیسے ناسخ و منسوخ، مفصول وموصول، محکم ومتشابہ کا علم