Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
149 - 1087
 آگہی حاصل کرنے کے لئے علم سیکھنا اور علمائے آخرت کے احوال کا مشاہدہ کرنا مفید ہے جیسا کہ عنقریب علمائے آخرت کی علامات بیان کی جائیں گی۔ یہ ابتدا میں ہے اور آخر میں مجاہدہ وریاضت، تصفیۂ قلب اور علائقِ دنیا سے دل کو فارغ کرنا اور اس میں انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے مشابہت اختیار کرنا اس علم کے حصول کے لئے مفید ہے۔ اس طرح جو بھی اس علم کو پانے کی کوشش کرے گا وہ جتنی کوشش کرے گا اتنا نہیں بلکہ اپنے نصیب کے مطابق اسے پالے گا۔ البتہ اس کے لئے مجاہدہ ضروری ہے کیونکہ مجاہدہ ہی ہدایت کی چابی ہے، اس کے سوا ہدایت کی کوئی چابی نہیں ۔
	مخصوص مقدار میں محمود علوم:جو علوم ایک خاص مقدار میں اچھے ہیں وہ ہیں جن کو ہم نے فرضِ کفایہ علوم میں نقل کیا ہے۔
علم کے درجات:
	ہر علم کے تین درجے ہیں : (۱)…بقدرِ ضرورت۔ یہ ادنیٰ درجہ ہے (۲)…میانہ روی۔ یہ درمیانہ درجہ ہے اور (۳)…درمیانی مقدار سے زیادہ اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آخر عمر تک حاصل کیا جائے تو تم دوشخصوں میں سے ایک بنو یا اپنی اصلاح میں مشغول رہو یا اپنی اصلاح سے فراغت پاکر دوسروں کی اصلاح کرو لیکن اپنی اصلاح سے قبل دوسروں کی اصلاح میں مشغول مت ہونا۔ اگر تم اپنی اصلاح میں مشغول ہو تو صرف اسی علم کو سیکھو جو تمہارے حال کے مطابق تم پر فرض ہے اور ظاہری اعمال سے متعلقہ علوم میں سے نماز، طہارت ، روزے کے مسائل سیکھو اور سب سے اہم دل کی صفات کا علم ہے جسے سب نے چھوڑ دیا ہے اور یہ کہ دل کی کون سی صفات اچھی ہیں اور کون سی بری؟ کیونکہ بری صفات ہر انسان میں ہوتی ہیں جیسے حرص، حسد، ریا، تکبر اور خودپسندی وغیرہ یہ سب ہلاک کردینے والی صفات ہیں ، ان سے بچنا واجبات میں سے ہے اور اس کے ساتھ ظاہری اعمال میں مشغول ہونا ایسا ہے جیسے خارش اور پھوڑوں کی تکلیف میں ظاہری بدن پر لیپ کرنا مگر پچھنے یا سینگی کے ذریعے فاسد مواد بدن سے نکالنے میں غفلت برتنا۔
نام نہاد علما اور علمائے آخرت:
	 جیسے راستوں میں بیٹھے طبیب ظاہری بدن کو لیپ کرنے کا کہتے ہیں ایسے ہی نام نہاد علما ظاہری اعمال کا مشورہ