تیسری فصل: اچھے علوم کی قابلِ تعریف مقدارکا بیان
جان لو! اس اعتبار سے علم کی تین قسمیں ہیں : (۱)…وہ علم جو برا ہے کم ہو یا زیادہ (۲)…وہ علم جو قلیل ہو یا کثیر اچھا ہے اور جب بھی وہ زیادہ ہوتا ہے بہتر وافضل ہوتا ہے اور (۳)…وہ علم جو بقدرِ کفایت اچھا ہے اور ضرورت سے زائد اچھا نہیں نیز اس میں بحث وتحقیق کرنا بھی اچھا نہیں اور یہ بدن کے احوال کی طرح ہے۔ ان میں بعض قلیل ہوں یا کثیر اچھے ہیں جیسے تندرستی اور خوبصورتی اور بعض وہ ہیں کہ کم ہوں یا زیادہ برے ہیں جیسے بدصورتی اور بداخلاقی اور بعض احوال میں میانہ روی اچھی ہے جیسے مال خرچ کرنا کہ اس میں زیادہ خرچ کرنا اچھا نہیں حالانکہ وہ بھی خرچ ہی ہے اور جیسا کہ شجاعت کہ اس میں ہلاک کردینا اچھا نہیں اگرچہ ہلاک کرنا بھی شجاعت ہی سے ہے۔ اسی طرح علم کا معاملہ ہے۔
مذموم علم: وہ علم جو برا ہے خواہ کم ہو یا زیادہ، یہ وہ ہے جس کا نہ توکوئی دنیوی فائدہ ہے اورنہ ہی دینی کیونکہ اس کا ضرر اس کے نفع پر غالب ہے جیسے جادو، طلسمات اور علمِ نجوم کہ ان میں سے کسی کا تو بالکل ہی فائدہ نہیں اور اس کے لئے عمر صرف کرنا انسان کا اپنے سب سے قیمتی سرمائے کو ضائع کرنا ہے اور قیمتی چیز کو ضائع کرنا برا ہے اور بعض وہ ہیں کہ ان کا ضرر دنیا میں کسی مقصد کے پورا ہونے کی امید سے بڑھ کر ہے۔ پس ان سے حاصل ہونے والے ضرر کی بنسبت یہ فائدہ قابلِ شمار نہیں ۔
محمود علم: جو علم سارے کا سارا اچھا ہے، وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات وصفات، افعال، مخلوق کے بارے میں اس کی عادتِ جاریہ اور آخرت کو دنیا پر مرتب کرنے کی حکمت کا علم ہے۔ یہ علم اپنی ذات کی وجہ سے بھی مطلوب ہے اور اس وجہ سے بھی کہ یہ اُخروی سعادت کا ذریعہ ہے۔ اس کے حصول میں جتنی بھی کوشش کرلی جائے حدِّواجب سے کم ہے کیونکہ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی تک رسائی نہیں اور گھومنے والے اس کے ساحلوں اور کناروں پر ہی بقدْرِ سہولت گھومتے ہیں ۔ اس میں انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام اور مضبوط علما ہی غوطہ لگاتے ہیں ۔ البتہ ان کے درجات ان کی قوتوں کے اختلاف کے اعتبار سے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے حق میں جو مقدر فرما دیا اس کے تفاوت کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔ یہی وہ پوشیدہ علم ہے جو کتابوں میں نہیں لکھا جاتا۔ اس پر