Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
146 - 1087
{5}…حکمت:پانچواں لفظ حکمت ہے۔ چنانچہ، حکیم کا نام اب طبیب، شاعر، نجومی یہاں تک کہ اس شخص پر بھی بولا جاتا ہے جو راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کے ہاتھوں پر قرعہ ڈالتا ہے حالانکہ حکمت تو وہ ہے جس کی تعریف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمائی ہے۔ چنانچہ، ارشادباری تعالیٰ ہے:
یُّؤۡتِی الْحِکْمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُۚ وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًاؕ (پ۳،البقرۃ:۲۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی۔
	حدیث ِ مبارکہ میں ہے کہ ’’حکمت کی بات جسے آدمی سیکھے وہ اس کے لئے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔‘‘  (۱)
	پس تم غور کرو کہ حکمت کس چیز کا نام تھا اور اب اسے کس معنی میں منتقل کرلیا گیا ہے۔ اسی پر دوسرے الفاظ کو قیاس کرلو اور علمائے سوء کے دھوکے وفریب سے بچو کیونکہ دین کے معاملے میں ان کا شر شیاطین کے شر سے بڑھ کر ہے اس لئے کہ شیطان انہی کے واسطے سے آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں سے ایمان نکالتا ہے۔ 
بدترین مخلوق:
	جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بدترین مخلوق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خاموشی اختیار فرمائی اور یہ دعا فرمائی کہ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بخش دے۔ جب بار بار پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’بدترین مخلوق برے علما ہیں ۔‘‘  (۲)
	جب تم اچھے برے علم کو جان چکے اور ان کے گڈمڈ ہونے کی وجہ بھی معلوم کرچکے تو اب تمہیں اختیار ہے کہ اپنے نفس کا لحاظ کرتے ہوئے اسلاف کی پیروی کرو یا پچھلے لوگوں کی طرح دھوکے کی رسی سے لٹکے رہو۔ اسلاف کے پسندیدہ تمام علوم مٹ گئے اور لوگ جن علوم میں مشغول ہیں ان میں سے اکثر بدعت اور نوپید ہیں ۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبار الحسن بن ابی الحسن، الرقم:۱۴۶۷، ص۲۷۱، عن الحسن بن ابی الحسن۔ المدخل، فصل فی العالم وکیفیۃ نیتہ…الخ، ج۱، ص۵۱۔ 
2…مسند البزار، مسند معاذ بن جبل، الحدیث:۲۶۴۹، ج۷، ص۹۳۔