Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
145 - 1087
واجب ہے کیونکہ صحابۂ کرام اور مفسرین عظام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے بعض آیات کے پانچ پانچ، چھ چھ اور سات سات معانی منقول ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ تمام معانی انہوں نے حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نہیں سنے کیونکہ بعض اوقات وہ معانی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور ان میں تطبیق نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا یہ عمدہ فہم اور طویل غور وفکر سے اخذ کئے گئے ہیں ۔ اسی لئے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے لئے دعا فرمائی کہ ’’اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ابن عباس کو دین کی سمجھ اور تاویل کا علم عطا فرما۔‘‘  (۱)
	اہلِ طامات میں سے جو اس طرح کی تاویلات کو یہ جانتے ہوئے بھی جائز قرار دیتا ہے کہ وہ الفاظ کی مراد نہیں اور یہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلانا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اَصْدَقُ الصَّادِقِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف جھوٹ اور من گھڑت بات منسوب کرنے کو جائز قرار دیتا ہے حالانکہ وہ بات فی نفسہٖ درست ہوتی ہے لیکن شرع نے اسے بیان نہیں کیا، جیسے وہ شخص جو ہر مسئلے میں جسے وہ حق جانتا ہے، رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب کرکے حدیث گھڑتا ہے تو یہ ظلم، گمراہی اور اس وعید میں داخل ہے جواس فرمانِ عالی سے مفہوم ہوتی ہے کہ ’’ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘  (۲)
	بلکہ ان الفاظ کی تاویل کا شر اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس سے الفاظ پر اعتماد اٹھ جاتا اور قرآنِ حکیم سمجھنے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کا راستہ بالکل ہی کٹ جاتا ہے۔ اب تم نے جان لیا کہ شیطان نے کس طرح لوگوں کے ارادوں کو اچھے علوم سے برے علوم کی طرف پھیر دیا۔ یہ سب علمائے سوئ(برے علما) کی طرف سے ناموں کے بدلنے کی وجہ سے ہوا اور اگر تم مشہور نام پر اعتماد کرتے ہوئے ان لوگوں کے پیچھے چلو گے اور پہلے زمانے میں جو معروف تھا اس کی طرف توجہ نہیں کرو گے تو تم اس کی طرح ہوگے جو حکمت کے شرف کو اس کی پیروی میں تلاش کرتا ہے جسے حکیم کہا جاتا ہے کیونکہ اس زمانے میں حکیم کا اطلاق طبیب، شاعر اور نجومی پر ہوتا ہے اور یہ الفاظ کی تبدیلی سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن العباس، الحدیث:۳۰۳۳، ج۱، ص۷۰۳۔
2…صحیح البخاری، کتاب العلم، باب اثم من کذب علی النبی، الحدیث:۱۱۰، ج۱، ص۵۷۔