Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
144 - 1087
	اس فرمانِ مصطفیٰ ’’تَسَحَّرُوْافَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃٌ‘‘ یعنی سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔‘‘ (۱) میں بھی تاویل کرتے ہیں ۔کہتے ہیں : ’’ اس میں تَسَحِّرُوْاسے سحری کے اوقات میں استغفار کرنا مراد ہے۔‘‘ 
	اس طرح کی اور بھی مثالیں ہیں یہاں تک کہ انہوں نے شروع سے آخر تک پورے قرآنِ مجید کو اس کے ظاہری معانی سے پھیر دیا ہے اور اس تفسیر سے بھی پھیر دیا جو حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور دیگر علما سے منقول ہے۔
مذکورہ تاویلوں کا بطلان:
	ان میں سے بعض تاویلوں کا باطل ہونا تو قطعی طور پر معلوم ہے جیسا کہ فرعون سے دل مراد لینا کیونکہ فرعون ایک محسوس شخص ہے۔ اس کے موجود ہونے اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کو دعوت دینے کی خبریں تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں ۔ جیسا کہ ابوجہل اور ابولہب وغیرہ کفار کی اخبار۔ نیز یہ شیاطین یا ملائکہ کی جنس سے نہیں کہ انہیں محسوس نہ کیا جاسکے حتی کہ ان الفاظ میں تاویل کی ضرورت پیش آئے۔ اسی طرح سحری کو استغفار پر محمول کرنا بھی باطل ہے کیونکہ آقائے دوعالم، نورِمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھانا تناول فرماتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ’’سحری کھاؤ اور اس مبارَک کھانے کی طرف آؤ۔‘‘  (۲)
	یہ وہ تاویلات ہیں کہ خبرمتواتر اور حِس سے ان کا باطل ہونا واضح ہے اور بعض وہ ہیں کہ جن کا بطلان ظن غالب کے طور پر معلوم ہے اور یہ تاویلات ان امور میں ہوتی ہیں جن کو محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ الغرض سب کی سب حرام، گمراہی اور لوگوں کے سامنے دین کو بگاڑنا ہے۔ ان میں سے کوئی بات صحابۂ کرام اور تابعین عظام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے منقول نہیں اور نہ ہی حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے منقول ہے حالانکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنے کے بڑے حریص تھے۔ اس فرمانِ مصطفیٰ کہ ’’جس نے اپنی رائے سے قرآن پاک کی تفسیر کی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘(۳) کا معنی و مفہوم یہی ہے۔ وہ یوں کہ اس کا مقصد اور رائے کسی چیز کو ثابت کرنا ہو اور اس پر قرآن سے دلیل لائے اور اسے اس چیز پر محمول کرے حالانکہ اس معنی پر محمول کرنے کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب برکۃ السحور من غیر ایحاب، الحدیث:۱۹۲۳، ج۱، ص۶۳۳۔ 
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث العرباض بن ساریۃ، الحدیث:۱۷۱۵۲، ج۶، ص۸۵۔ 
3…سنن الترمذی، کتاب تفسیرالقرآن، باب ماجاء فی الذی یفسرالقرآن برایہ، الحدیث:۲۹۶۰، ج۴، ص۴۳۹۔ 

لفظی یعنی لغوی یا نقلی دلیل نہ ہو۔ اس حدیث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ قرآنِ پاک کی تفسیر اجتہاد اور غور وفکر سے نہ کرنا