Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
143 - 1087
شرعی الفاظ کو ان کے ظاہری مفہوم سے باطنی امور کی طرف پھیردینا جن کا کوئی فائدہ سمجھ میں نہیں آتا جیسے فرقہ باطنیہ(۱) کی عادت ہے کہ وہ تاویلیں کرتے ہیں ، یہ بھی حرام ہے اوراس کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ جب الفاظ کو  کسی نقلی شرعی دلیل اور ضرورت کے بغیر ان کے ظاہری معانی سے پھیردیا جائے گا تو اس کی وجہ سے الفاظ سے اعتماد جاتا رہے گا اور اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کلام کا نفع ختم ہوجائے گا اس لئے کہ ظاہر سے جو سمجھ میں آیا اس کا اعتماد نہ رہا اور باطن سب کا یکساں نہیں بلکہ اس میں خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور مختلف صورتوں پر الفاظ کو ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہ بھی عام بدعتوں میں سے ایک ہے جس کا نقصان بہت زیادہ ہے اور طامات والوں کا مقصد عجیب وغریب باتیں ہیں کیونکہ نفس ان کی طرف مائل ہوتے اور ان سے لذَّت پاتے ہیں اس طریقے سے فرقہ باطنیہ الفاظ کے ظاہری مفاہیم میں تاویلات کرکے اپنی رائے کے مطابق ان کے مفاہیم بناکر ساری شریعت کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ جیسا کہ ہم نے باطنیہ کے رد میں جو کتاب المستظہری تصنیف کی اس میں ان کے مذاہب بیان کئے ہیں ۔
اہل طامات کی تاویلات کی مثالیں :
	بعض اس آیت میں تاویل کرتے ہیں :
اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿۫ۖ۱۷﴾(پ۳۰،النّٰزعٰت:۱۷)		ترجمۂ کنزالایمان: فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا۔
	کہتے ہیں : ’’ اس میں دل کی طرف اشارہ ہے اور فرعون سے دل مراد ہے، وہی ہر انسان پر سرکشی کرتا ہے۔‘‘
	 اس آیت میں بھی تاویل کرتے ہیں :
وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ؕ (پ۲۰، القصص:۳۱)			ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا۔
	کہتے ہیں : ’’ اس میں عصا سے مراد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر وہ چیز ہے جس پر بندہ اعتماد کرتا اور اس کا سہارا لیتا ہے اسے چاہئے کہ ایسی چیزوں کو چھوڑ دے۔‘‘ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…اہلِ تشیع کا ایک فرقہ جس کا لیڈر حسن بن صباح تھا، اس کے اعتقاد میں ہر شرعی امر کے ایک ظاہری معنی ہوتے ہیں اور دوسرے باطنی۔ یہ لوگ اپنے مخالفین کو فریب سے قتل کردیا کرتے تھے اور ان کوحشیشین بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بھنگ پیا کرتے تھے۔