Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
142 - 1087
لوگوں کے لئے فتنہ:
	مروی ہے کہ مکی مدنی سرکار، باذنِ پروردگار، دوعالم کے مالک ومختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی لوگوں کے سامنے ایسی بات بیان کرے جسے وہ سمجھ نہ پائیں تو وہ ان کے لئے فتنہ ہے۔‘‘  (۱)
	ایک روایت میں ہے کہ ’’لوگوں سے وہی باتیں بیان کرو جنہیں وہ مان لیں اور وہ باتیں بیان نہ کرو جن کا وہ انکار کریں ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تکذیب ہو؟‘‘  (۲)
	یہ ارشاد ان باتوں کے بارے میں ہے جنہیں خود کہنے والا سمجھتاہو مگر سننے والے کی عقل کی وہاں تک رسائی نہ ہو تو پھر ان باتوں کو بیان کرنے کا کیا حال ہوگا جنہیں خود کہنے والا ہی نہ سمجھے۔ اگر کہنے والا سمجھتا ہو اور سننے والا نہ سمجھے تو ایسی بات بیان کرنا جائز نہیں ۔
جاہل اور ظالم:
	حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: ’’کسی نااہل کوحکمت سکھانا ظلم اور اہل سے اسے روکے رکھنا بھی ظلم ہے۔ تم اس طبیب کی طرح بن جاؤ جو بیماری کے مطابق دوا تجویز کرتا ہے۔‘‘  (۳)
	ایک روایت میں ہے کہ ’’جو کسی نااہل کوحکمت سکھائے وہ جاہل ہے اور جو اہل سے اسے روکے وہ ظالم ہے۔ بے شک حکمت کا ایک حق ہے اور کچھ لوگ اس کے اہل ہیں لہٰذا ہر حقدار کو اس کا حق دو۔‘‘  (۴)
طامات کیا ہیں ؟
	طامات میں وہ سب باتیں داخل ہیں جو ہم نے شطح کے بیان میں ذکر کیں اور مزید اس میں خاص بات یہ ہے کہ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ماسمع، الحدیث:۵، ص۹۔ کتاب الضفاء للعقیلی، الرقم:۱۲۰۲، عثمان بن داود، ج۳، ص۹۳۷۔ 
2…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من خص بالعلم قوما دون قوم کراھیۃ ان لایفھموا،ج۱،ص۶۷۔ الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع، ذکر مایستحب فی الاملاء…الخ، الحدیث:۱۸، ج۲، ص۱۰۸۔ 
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۷۔ 
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۷۔