نے کاشتکاری چھوڑکر اس طرح کے دعوے کرنے شروع کردئیے۔ کیونکہ اس قسم کے کلام سے طبیعتیں لطف اندوز ہوتی ہیں کہ اس میں مقامات اور احوال کے حصول کے لئے اعمال اور تزکیہ نفس کی حاجت نہیں ہوتی۔ تو پھر غبی لوگ اپنے لئے اس کا دعویٰ کرنے سے کیوں باز رہیں اور من گھڑت و مہمل باتیں کیوں نہ کہیں اور جب ان پر کوئی اعتراض کرے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کہ اس اعتراض کا سبب علم اور مناظرہ ہے ۔ علم تو حجاب ہے اور مناظرہ نفس کا عمل ہے اور یہ باتیں تو نورِحق کے مشاہدے کے ساتھ باطن سے اٹھتی ہیں ۔ پس یہ اور اس قسم کی باتوں کا شر شہروں میں عام ہوگیا اس سے عوام کو بہت نقصان پہنچا یہاں تک کہ جو اس قسم کی کوئی بات کہے تو دین اسلام میں اسے قتل کر دینادس کو زندہ رکھنے سے افضل ہے اور حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بارے میں جو منقول ہے وہ صحیح نہیں اور اگر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے یہ بات سنی بھی گئی ہے تو وہ گویا آپ اپنے دل میں جو کلام بار بار کہتے اس کی حکایت کرتے ہوئے آپ نے کہا ہے جیسا کہ کوئی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو یہ کہتے ہوئے سنے:
اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیۡ ۙ(پ۱۶،طٰہٰ:۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک میں ہی ہوں اللّٰہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر۔
تو ضروری ہے کہ اسے بطورِ حکایت ہی سمجھا جائے۔
(۲)…شطح کی دوسری قسم وہ الفاظ ہیں جو سمجھ میں نہ آئیں ، ان کے ظاہر تو اچھے ہوں لیکن ان کے معانی ہولناک ہوں اور ان میں کوئی فائدہ نہ ہونیز وہ کلمات ایسے ناقابلِ فہم ہوں کہ یا تو ان کے کہنے والے کو سمجھ میں نہ آتے ہوں بلکہ عقل کی خرابی اور خیال کی پریشانی کے باعث اس سے صادر ہوتے ہوں ، یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جو کلام اس کی سماعت سے ٹکراتا ہے وہ اس کے معنی کا احاطہ نہیں کرتا اور یہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یا پھر وہ الفاظ ایسے ہوں کہ خود کہنے والے کو تو سمجھ میں آئیں لیکن دوسروں کو سمجھا نہ پائے اور مَافِی الضَّمِیْر بیان کرنے کے لئے کوئی عبارت نہ لاپائے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اسے علم سے شغف نہیں ہوتا اور نہ اس نے معانی کو عمدہ الفاظ سے تعبیر کرنے کا طریقہ سیکھا ہوتا ہے۔ اس طرح کے کلام کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کلام دلوں کو پریشان اور عقلوں اور ذہنوں کو حیران کردیتا ہے۔ یا ایسے کلام کا محمل یہ ہوتا ہے کہ اس سے وہ معانی سمجھ لئے جائیں جو مقصود نہیں اور ہر ایک اپنی خواہش اور طبیعت کے مطابق سمجھ لے۔