دلیل پکڑتے ہیں اور اسے دلیل بناتے ہیں جو ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے سُبْحَانِی سُبْحَانِی(۱) کہا تھا۔ علم کلام کے اس فن سے عوام کو بہت نقصان پہنچا یہاں تک کہ کسانوں کی ایک جماعت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
… میرے لئے چھوڑدو، انہوں نے ایک جُرعَہ(یعنی ایک گھونٹ) چھوڑدیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہر جڑی بوٹی، ہر دَر ودِیوار سے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کا زیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیا جائے۔ انہوں نے کہنا شروع کیا، ’’اَنَالَاَحَق‘‘ بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزاوار(یعنی حق دار) ہوں ۔ لوگوں کے سننے میں آیا، اَنَاالْحَق(یعنی میں حق ہوں ۔) وہ(لوگ) دعوی خدائی سمجھے، اور یہ(یعنی خدائی کادعوی) کفرہے اور مسلمان ہوکر جو کفر کرے مرتدہے اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ (صحیح البخاری،کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم،ج۴، ص۳۷۸،حدیث:۶۹۲۲پر ہے کہ) رَسُوْلُ اللّٰہ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے ہیں : مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہ فَاقْتُلُوْہ ترجمہ: جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کرو۔ (فتاوی رضویہ ، ج۲۶، ص۴۰۰)
1…مجدد اعظم، سیِّدُنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن(متوفی 1340ھ) اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا بایزید بسطامی اور ان کے امثال ونظائر(یعنی ان جیسے دیگر اولیا) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم وقت ورودِتجلی خاص (یعنی خاص تجلی وارد ہونے کے وقت) شجرۂ موسیٰ ہوتے ہیں سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم کو درخت میں سے سنائی دیا: : یٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾ (یعنی)اے موسیٰ! بیشک میں اللّٰہ ہوں رب سارے جہاں کا۔ کیا یہ ہر پیڑ(یعنی درخت) نے کہا تھا؟ حَاشَالِلّٰہ(یعنی ہرگزنہیں ) بلکہ واحد ِ قہار (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) نے جس درخت پر تجلی فرمائی اور وہ بات درخت سے سننے میں آئی کیا ربُّ العزت ایک درخت پر تجلی فرماسکتا ہے اور اپنے محبوب بایزید پر نہیں ؟ نہیں نہیں ! وہ ضرور تجلی ربانی تھی کلام بایزید کی زبان سے سنا جاتا تھا جیسے درخت سے سنا گیا اور متکلم(یعنی کلام فرمانے والا) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تھا، اسی نے وہاں فرمایا: یٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾ (ترجمہ: اے موسی! میں اللّٰہ ہوں رب سارے جہاں کا۔) اسی نے یہاں بھی فرمایا: سُبْحَانِی مَااَعْظَمُ شَانِی(ترجمہ: میں پاک ہوں اور میری شان بلند ہے۔)
سیِّدِی اعلیٰ حضر ت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ مزید ارشاد فرماتے ہیں : حضرت مولوی قُدِّسَ سِرُّہُ الْمَعْنَوِی نے مثنوی شریف میں اس مقام کی خوب تفصیل فرمائی ہے اور تسلط ِ جن سے اس کی توضیح کی ہے کہ انسان پر ایک جن مسلط ہوکر اس کی زبان سے کلام کرے اور رب عَزَّوَجَلَّ اس پر قادر نہیں کہ اپنے بندے پر تجلی فرماکر کلام فرمائے جو اس کی زبان سے سننے میں آئے، بلاشبہ اللّٰہ قادر ہے او رمعترض کا اعتراض باطل۔ اس کا فیصلہ خود حضرت بایزید بسطامی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانہ میں ہوچکا ظاہربینوں بے خبروں نے ان سے شکایت کی کہ آپ سُبْحَانِی مَااَعْظَمُ شَانِی کہا کرتے ہیں ۔ فرمایا: حَاشَا(یعنی ہرگز) میں نہیں کہتا۔ کہا: آپ ضرور کہتے ہیں ہم سب سنتے ہیں ۔ فرمایا: جو ایسا کہے وَاجِبُ الْقَتْل (یعنی اسے قتل کرناواجب) ہے۔ میں بخوشی تمہیں اجازت دیتا ہوں جب مجھے ایسا کہتے سنو بے دریغ خنجر ماردو۔ وہ سب خنجر لے کر منتظر وقت رہے ۔ یہاں تک کہ حضرت پر تجلی وارد ہوئی اور وہی سننے میں آیا: سُبْحَانِی مَااَعْظَمُ شَانِی (یعنی) مجھے سب عیبوں سے پاکی ہے میری شان کیا ہی بڑی ہے۔ وہ لوگ چار طرف سے خنجر لے کر دوڑے اور حضرت پر وار کئے جس نے جس جگہ خنجر مارا تھا خود اس کے اسی جگہ لگا اور حضرت پر خط(یعنی خراش) بھی نہ آیا۔ جب افاقہ ہوا دیکھا لوگ زخمی پڑے ہیں ۔ فرمایا: میں نہ کہتاتھا کہ میں نہیں کہتا وہ فرماتا ہے جسے فرمانا بجا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَم۔ (فتاوی رضویہ، ج۱۴، ص۶۶۵،۶۶۶)