Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
139 - 1087
ان کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی دوسرا نہ ہو تو ایسے لوگوں کی موجودگی میں وہ شعر کہنا نقصان دہ نہیں جس کے ظاہر میں مخلوق کی طرف اشارہ ہے کیونکہ سننے والا جو کچھ سنتا ہے اسے اس مفہوم پر ڈھال لیتا ہے جو اس کے دل پر غالب ہو۔ جیسا کہ اس کی تحقیق ’’کتَا بُ السَّمَاع‘‘ میں آئے گی۔
میرے رُفقا تو خاص لوگ ہیں :
	 حضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی دس سے کچھ زائد لوگوں کے سامنے وعظ فرماتے، اگر اس سے زیادہ ہوجاتے تو وعظ نہ کرتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی مجلس میں کبھی بیس شخص پورے نہ ہوئے۔ ایک بار ابن سالم کے گھر کے دروازے پر ایک جماعت حاضر ہوئی، کسی نے عرض کی: ’’حضور! آپ کے رفقا حاضر ہیں انہیں وعظ فرمائیے۔‘‘ فرمایا: ’’ نہیں ، یہ میرے رفقا نہیں یہ تو مجلس والے ہیں ۔ میرے رُفقا تو خاص لوگ ہیں ۔‘‘
 شَطْح سے کیا مراد ہے؟
	 شَطْح سے مراددوقسم کا کلام ہے جو بعض صوفیا کی ایجاد ہے: (۱)…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت اور وصال کے لمبے چوڑے دعوے، جس کی وجہ سے انہیں ظاہری اعمال کی حاجت نہیں رہتی یہاں تک کہ بعض لوگوں نے تواتحاد کا دعویٰ کردیا اور کہا کہ حجاب اٹھ گیا، وہ اپنی آنکھوں سے ربّ عَزَّوَجَلَّ  کو دیکھتے ہیں اور انہیں براہِ راست خطاب ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہمیں یہ کہا گیا ہے اور ہم نے یوں کہا۔ وہ اس میں حضرت سیِّدُنا حسین بن منصور حلاجعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کی مشابہت اختیار کرتے ہیں جنہیں اس قسم کے کلمات کہنے کی وجہ سے سولی چڑھایا گیا اور ان کے قول اَنَاالْحَق(۱) سے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عوام میں مشہور ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا حسین بن منصور حلاّج عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق نے اَنَاالْحَق(یعنی میں حق ہوں ) کہا تھا اس کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مجددِدین وملت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں : حضرت سیِّد ِی حسین بن منصور حلاّج  قُدِّسَ سِرُّہُ جن کو عوام منصورکہتے ہیں ، منصور اِن کے والد کانام تھا، اور ان کااسم گرامی حسین۔ (آپ)اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بَدَرَجَہا مرتبۂ ولایت ومعرِفت میں زائدتھیں  ۔ وہ آخرشب کو جنگل تشریف لے جاتیں اور یادِالٰہی میں مصروف ہوتیں ۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کونہ پایا، گھر میں ہر جگہ تلاش کیا، پتانہ چلا، اُن کو وسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کر جاگتے رہے۔ وہ اپنے وقت پر اُٹھ کر چلیں ، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہولئے، دیکھتے رہے۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کا جام اُترا اور ان کے دہن مبارک(یعنی مُنہ شریف) کے برابر آلگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبرنہ ہوسکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے۔ بے اختیارکہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) کی قسم کہ تھوڑا…