سَجَع(قافیہ دار) وہ منع ہے جس میں تکلف ہو اور وہ کلام دو کلموں سے زیادہ پرمبنی ہو۔ اسی وجہ سے جب کسی شخص نے جنین(یعنی پیٹ کے بچے) کی دیت کے بارے میں (مُسَجَّعْ کَلَامکرتے ہوئے) کہا: ’’کَیْفَ نَدِی مَنْ لَاشَرِبَ وَلَااَکَلَ وَلَاصَاحَ وَلَااسْتَہَلَّ وَمِثْلُ ذٰلِکَ یَطُلُّ یعنی :ہم اس کی دیت کیوں ادا کریں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا نہ بولا، اور اس جیسے کا خون تو معاف ہوتا ہے۔‘‘ توپیارے مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے ارشاد فرمایا: ’’ دیہاتیوں کی طرح مُسَجَّعْ کَلَام کرتا ہے۔‘‘(۱)
جہاں تک اشعار کا تعلُّق ہے تو وعظ ونصیحت میں ان کی کثرت مذموم ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕ اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ (پ۱۹، الشعرآء:۲۲۴،۲۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں ۔
ایک اور مقام پرارشاد فرمایا:
وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ (پ۲۳،یٰسٓ :۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے۔
واعظین کو اکثر وہ اشعار زیادہ پڑھنے کی عادت ہے جن میں عشق، معشوق کے حسن وجمال، وصالِ یار کی راحت اور فراق کی تکلیف کا بیان ہوتا ہے اور مجلس جاہل عوام سے بھری ہوتی ہے۔ ان کے باطن خواہشات سے لبریز ہوتے ہیں۔ ان کے دل خوبصورت چہروں کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور اس طرح کے اشعار ان میں چھپی شہوت کو بھڑکاتے ہیں ۔ ان میں خواہشات کی آگ جل اٹھتی ہے پھر وہ چیختے اور وجد میں آ جاتے ہیں ۔ ان میں اکثر یا تمام شعر فساد پر مبنی ہوتے ہیں ۔ اس لئے دلیل پکڑنے یا لوگوں کی بوریت کا خاتمہ کرنے کے لئے حکمت یا نصیحت پر مشتمل شعر ہی استعمال کیا جائے۔ (اسی وجہ سے) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ بعض شعر ضرور حکمت ہیں ۔‘‘ (۲)
اگر مجلس میں خاص لوگ ہوں جن کے بارے میں معلوم ہو کہ ان کے دل اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں مستغرق ہیں ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح مسلم، کتاب القسامۃ والمحاربین…الخ، باب دیۃ الجنین، الحدیث:۱۶۸۲، ص۹۲۴۔
2…صحیح البخاری، کتاب الادب، باب مایجوز من الشعر…الخ، الحدیث:۶۱۴۵، ج۴، ص۱۳۹۔