جن میں لغزشوں یا سستیوں کی طرف اشارہ ہویا عوام جن کے مطالب نہ سمجھ سکیں یا یہ نہ سمجھ سکیں کہ وہ لغزش نادر تھی اور اس کے بعد اس کے کفارے میں کئی نیکیوں کے ذریعے اسے ڈھانپ دیا گیاکیونکہ عام شخص اپنی لغزشوں اور سستیوں میں اس کا سہارا لے گا اور اس میں اپنے لئے بہانے تلاش کرے گااور اس سے دلیل پکڑے گا کہ بیان کیا گیا ہے کہ بعض بزرگانِ دین اور بعض اکابرین سے فلاں فلاں خطائیں ہوئی ہیں ، ہم سب گناہوں کی راہ پر ہیں اس لئے اگر مجھ سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ہوگئی ہے تو کیا تعجب ہے جبکہ جو مجھ سے بڑے ہیں ان سے بھی نافرمانیاں ہوئی ہیں اور یہ چیز غیر شعوری طور پر اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی پر دلیر کردے گی۔ اگر ان دوممنوع باتوں سے بچا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس وقت یہ اچھے واقعات اور قرآنِ پاک اوراحادیثِ مبارکہ کی صحیح کتب میں بیان کردہ قصوں کی طرف مراجعت کرے گا۔ بعض لوگوں نے طاعات کی رغبت دلانے والی حکایات وضع کرنے(گھڑنے)کی اجازت دی ہے۔ ان کا گمان ہے کہ ایسی حکایات وضع کرنے کا مقصد لوگوں کو حق کی طرف بلانا ہے، لیکن یہ شیطانی وسوسوں میں سے ہے کیونکہ سچ میں جھوٹ سے بچنے کی بہت گنجائش ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نصیحت کے لئے جو بیان فرمادیا وہی کافی ہے، وضع کرنے اور گھڑنے کی کوئی حاجت نہیں ۔ نیز اس کی اجازت کیونکر ہوسکتی ہے جبکہ مُقَـفّٰی ومُسَجَّعْ کَلَام کرنے کا تکلف بھی ناپسندیدہ ہے اور اسے تَصَنُّع (بناوٹ)شمار کیا گیا ہے۔ چنانچہ،
تکلُّف سے کلام کرنے کی ممانعت:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے عمر کو مُسَجَّعْ کَلَام کرتے سنا تو فرمایا: ’’ اسی چیز نے تجھے میری نظر میں ناپسندیدہ بنادیا ہے، میں اس وقت تک ہرگز تیری کوئی حاجت پوری نہیں کروں گا جب تک تو اس سے توبہ نہ کر لے۔‘‘ حالانکہ اس وقت وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس کسی کام سے آئے تھے۔
حضور نبی ٔکریم، رَء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن رواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے تینمُسَجَّعْ کَلِمَات سنے تو فرمایا: ’’اے اِبن رواحہ! مُسَجَّعْ کَلَام سے بچو۔‘‘ (۱)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۸۶۔ مسندابی یعلی الموصلی، مسند عائشہ، الحدیث:۴۴۵۸، ج۴، ص۸۸۔