Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
136 - 1087
آخرت، موت کو یاد دلانے، نفس کے عیبوں پر آگاہ کرنے، اعمال کی آفات، شیطانی وسوسوں اور ان سے بچنے کے طریقے بیان کررہے تھے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کو یاد دلانے اور اس کا شکر کرنے میں بندے کے کوتاہ ہونے کے بارے میں کلام کررہے تھے۔ دنیا کی حقارت، اس کے عیوب، اس کی ہلاکتوں اور اس کے بے وفا ہونے کی پہچان کروا رہے تھے۔ آخرت کے خطرات اور اس کی ہولناکیاں بیان کررہے تھے۔ یہ اندازِ نصیحت شریعت کو پسند ہے اور حضرت سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث میں اس کی ترغیب بھی موجود ہے۔ چنانچہ،
ذکرکی محفل میں حاضر ہونے کی فضیلت:
	مروی ہے کہ ذکر کی مجلس میں حاضر ہونا ہزار رکعت نمازپڑھنے سے افضل ہے اور علم کی مجلس میں حاضر ہونا ہزار مریضوں کی عیادت کرنے اور ہزار جنازوں میں شرکت کرنے سے افضل ہے۔ عرض کی گئی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! قرآنِ پاک کی تلاوت سے بھی افضل ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’کیا تلاوتِ قرآن علم کے بغیر نفع مند ہے۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا عطا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ ذکر کی مجلس غفلت کی 70مجلسوں کا کفارہ ہے۔‘‘  (۲)
	چکنی چپڑی باتیں کرنے والوں نے ان احادیث کو اپنے نفسوں کی پاکیزگی وصفائی پر حجت بنالیا اور لفظِ تذکیر کو اپنی خرافات کی طرف پھیرلیا اور شرعاً پسندیدہ ذکر کے راستے سے ہٹ کر ان قصوں میں مشغول ہوگئے جن میں اختلافات اور کمی بیشی ہے۔ قرآنِ مجیدمیں بیان کردہ واقعات ان قصوں سے خارج اور زائد ہیں کیونکہ بعض قصے سننے سے فائدہ ہوتا ہے اور بعض کا سننا نقصان کاباعث ہے اگرچہ وہ سچے ہی کیوں نہ ہوں ۔ جو خود پر یہ دروازہ کھولتا ہے اس پر سچ اور جھوٹ، نفع بخش اور نقصان دہ خلط ملط ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس سے منع کیا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل نے فرمایا: ’’ لوگوں کو سچے واقعات بیان کرنے والے کی کتنی ضرورت ہے۔‘‘  (۳)
	اگر قصہ انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دینی امور سے متعلق ہو اور قصہ بیان کرنے والا بھی سچا اور صحیح راوی ہو تو میں اسے بیان کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔ اسے چاہئے کہ جھوٹ سے بچے اور ان احوال کو بیان نہ کرے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱،  ص۲۵۷۔ 
2…المرجع السابق۔ 		
3…المرجع السابق، ص۲۶۰۔