قصہ گوواعظین کی مذمت:
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (اچانک) مسجد سے باہر تشریف لے آئے اور فرمایا: ’’میں قصہ گو کی وجہ سے باہر نکلا ہوں ، اگر وہ نہ ہوتا تو میں باہر نہ آتا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا ضمرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے پوچھا: ’’کیاہم قصہ گو کی طرف منہ کر سکتے ہیں ؟‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’ بدعتیوں سے اپنی پیٹھیں پھیرلو۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر ہواتو انہوں نے پوچھا: ’’ آج کی کیا خبر ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’ حاکم نے قصہ گولوگوں کو قصے بیان کرنے سے روک دیا ہے۔‘‘ توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’حاکم کو درست بات کی توفیق نصیب ہوئی ہے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوئے تو ایک قصہ گو کو قصے بیان کرتے ہوئے دیکھا وہ کہہ رہا تھا کہ ’’ ہمیں حضرت سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے بیان کیا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حلقے کے بیچ میں جابیٹھے اور بغل کے بال اکھیڑنے لگے۔ قصہ گو نے کہا: ’’اے شیخ! کیا تمہیں حیا نہیں آتی؟‘‘ فرمایا: ’’کس وجہ سے، میں تو سنت پر عمل کررہا ہوں جبکہ تم جھوٹ بول رہے ہو، میں اعمش ہوں اور میں نے تو تم سے کوئی حدیث بیان نہیں کی۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل نے فرمایا: ’’ لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے قصہ گو اور بھکاری ہیں ۔‘‘ (۴)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بصرہ کی جامع مسجد سے قصہ گو لوگوں کو نکال دیا۔ جب حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا کلام سنا تو انہیں نہ نکالا کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ علمِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۰۔
2…المرجع السابق۔
3…المرجع السابق، بدون:وفق اللصواب۔
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۰۔