اس سے مراد محض زبان سے کہہ دینا نہیں کیونکہ زبان تو دل کی ترجمان ہوتی ہے کبھی سچ بولتی ہے تو کبھی جھوٹ اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نظر کا مقام تو وہ ہے جس کی ترجمانی زبان کرتی ہے اور وہ دل ہے اوریہی توحید کا مرکز اور سرچشمہ ہے۔
{4}…ذکر وتذکیر: اللّٰہ ربُّ الْعِبَاد عَزَّوَجَلَّ کا ارشاد ہے:
وَّ ذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنۡفَعُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾ (پ۲۷،الذّٰریٰت:۵۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتاہے۔
محافل ذکر کی فضیلت:
ذکر کی محافل کی فضیلت میں کثیر احادیث مروی ہیں ۔ چنانچہ، حضورنبی ٔ پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرو تو کچھ نہ کچھ چن لیا کرو۔‘‘ عرض کی گئی: ’’ جنت کی کیاریاں کیا ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ ذکر کے حلقے۔‘‘ (۱)
سرکارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مخلوق کے فرشتوں کے علاوہ بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ فرشتے ہیں جو دنیا میں سیاحت(سیر) کرتے ہیں ، جب وہ ذکر کی محفلیں دیکھتے ہیں تو ان میں سے بعض بعض کو پکارتے ہیں اور کہتے ہیں : آؤ! اپنے مقصود کی طرف۔ وہ وہاں آتے ہیں ، ذکر کرنے والوں کو گھیر لیتے ہیں اور غور سے سنتے ہیں ۔ سنو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیا کرو اور اپنے آپ کو نصیحت کیا کرو۔ (۲)
اس لفظ کو اس کے حقیقی معنی سے بدل دیا گیا ہے کہ اب اس کا اطلاق اس پر کیاجاتاہے جسے اکثر واعظین ہمیشہ بیان کرتے ہیں اور وہ قصے، اشعار، شطح اور طامات ہیں (مؤخر الذکر دونوں کی وضاحت آگے آرہی ہے)۔ قصے بدعت ہیں اور اسلاف نے قصہ گو کے پاس بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے کہ قصے نہ تو زمانۂ رسالت میں تھے اور نہ ہی شیخین یعنی امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے زمانے میں یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہوا اور قصہ گو ظاہر ہوئے۔ (۳)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن الترمذی،کتاب الدعوات، باب:۸۷، الحدیث:۳۵۲۱، ج۵، ص۳۰۴۔
2…سنن الترمذی، باب ماجاء ان اللّٰہ ملائکۃسیاحین فی الارض، الحدیث:۳۶۱۱، ج۵، ص۳۴۴۔
3…سنن ابن ماجہ،کتاب الادب، باب القصص، الحدیث:۳۷۵۴، ج۴، ص۲۲۷۔ المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الادب، من کرہ القصص وضرب فیہ، الحدیث:۱، ج۶، ص۱۹۶۔