Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
132 - 1087
ہے اسے ) بالکل چھوڑ دیا ہے۔ توحید کا پہلا پوست تو یہ ہے کہ تو اپنی زبان سے کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ اس توحید کو تثلیث (یعنی خداتین ہیں باپ ، بیٹا اورروح القدس۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِک) کے خلاف توحید کہا جاتا ہے جس کے نصاریٰ قائل ہیں لیکن کبھی اس منافق سے بھی اس توحید کا صدور ہوجاتا ہے جس کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف ہوتا ہے۔توحید کا دوسرا پوست یہ ہے کہ دل میں اس قول کی مخالفت اور اس کا انکار نہ ہو بلکہ ظاہر دل بھی اس کے اعتقاد اور تصدیق کو شامل ہو اور یہ عام لوگوں کی توحید ہے۔ علمِ کلام والے اسی پوست کو اہلِ بدعت کی گڑبڑ سے بچاتے ہیں جیسا کہ پیچھے گزرا۔تیسری چیز مغزِ توحید ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام امور کے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہونے کا ایسا اعتقاد رکھاجائے کہ اسباب ووسائل کی طرف بالکل توجہ نہ رہے۔ صرف ایک خدا کی عبادت کی جائے، اس کے غیر کی عبادت نہ کی جائے۔
حقیقی توحید سے خارج اُمور:
	 (۱)اس توحید سے خواہشِ نفس کی پیروی خارج ہے اور ہر وہ شخص جس نے خواہشِ نفس کی پیروی کی اس نے خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنالیا۔ اللّٰہ ربُّ الْعِبَاد عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے:
اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ (پ۲۵،الجاثیۃ:۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا۔
	تاجدارِانبیا، محبوبِ کبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ معبود زمین پر جس کی پرستش کی جائے وہ خواہشِ نفس ہے۔‘‘ (۱)
	مثال:تحقیق یہ ہے کہ جو غور کرے گا وہ جان لے گا کہ بت کی پوجا کرنے والا درحقیقت بت کو نہیں بلکہ اپنی خواہشِ نفس کو پوجتا ہے کیونکہ اس کا نفس اس کے آباء واجداد کے دین کی طرف مائل ہوتا ہے اور وہ اس میلان کی اتباع کرتا ہے اور نفس کا اپنی پسندیدہ باتوں کی طرف مائل ہونا انہی معانی میں سے ایک ہے جنہیں خواہشاتِ نفسانیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۷۵۰۲، ج۸، ص۱۰۳۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، خُصَیْب بن جَحْدَر البصری:۶۱۸، ج۳، ص۵۲۲۔