لوگ اختلافات اور جھگڑوں کادروازہ کھولنے والے کوسخت ناپسند کرتے تھے۔ بہرحال جن ظاہری دلائل پر قرآنِ پاک مشتمل ہے اورپہلی سماعت پر ہی جنہیں قبول کرنے میں ذہن جلدی کرتے ہیں ، وہ سب کو معلوم تھے اور قرآنِ پاک کا علم ہی تمام علم تھا۔ ان کے نزدیک توحیدکسی اور چیز کا نام تھا جسے اکثر علمِ کلام والے نہیں سمجھتے اور اگر سمجھیں تو اس سے متصف نہیں ہوتے۔
حقیقی توحید:
تمام امور کے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہونے کا ایسا اعتقاد رکھاجائے کہ اسباب ووسائل کی طرف بالکل توجہ نہ رہے۔ ہر خیر وشر کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے جاناجائے۔ یہ ایک معزز مقام ومرتبہ ہے۔ اس کے نتائج وفوائد میں سے ایک توکل بھی ہے جس کا بیان ’’کتابُ التَّوَکُّل‘‘میں آئے گا۔
توحید کے فوائد و ثمرات:
توحید کے ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مخلوق کی شکایت نہ کی جائے، ان پر غصہ نہ کیاجائے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم اور فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر رضا مندی کا اظہار کیا جائے ، اسی کے ثمرات میں سے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ قول ہے کہ جب بیماری میں آپ سے عرض کی گئی: ’’کیا ہم آپ کے لئے طبیب کو لے آئیں ؟‘‘ توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ طبیب ہی نے تو مجھے بیمار کیا ہے۔‘‘ (۱) نیز یہ بھی منقول ہے کہ جب آپ بیمارہوئے اور پوچھا گیا کہ ’’طبیب نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مرض کے بارے میں کیا کہا ہے؟‘‘ تو فرمایا: ’’طبیب نے کہا ہے کہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ۔‘‘ (۲)
عنقریب ’’کتابُ التَّوَکُّل ‘‘ اور ’’کتابُ التَّوْحِیْد‘‘ میں اس کے دلائل بیان ہوں گے۔
توحید ایک نفیس جوہر ہے اور اس کے دوپوست(چھلکے)ہیں ایک دوسرے کی بنسبت مغز سے زیادہ دور ہے۔ لوگوں نے لفظ ِتوحید کو پوست(چھلکے)اوراس کی حفاظت کے کام کے ساتھ خاص کردیا ہے اور مغز کو (جوکہ خالص توحید
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد ابی بکرالصدیق، الرقم:۵۸۷، ص۱۴۲۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام ابی بکر الصدیق، الحدیث:۱۰، ج۸، ص۱۴۶۔