Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
130 - 1087
 کے ہوکر رہ گئے اور انہوں نے اس پر صرف طبیعت کو معاوِن پایا کیونکہ علمِ باطن گہرا، اس پر عمل کرنا مشکل اور اس کے ذریعے حکومت، عہدۂ قضا اور عزت ومال کا حصول دشوار ہوتاہے۔ اس وجْہ سے شیطان نے اس(یعنی ظاہری فقہ) کو لوگوں کے دلوں میں عمدہ بنانے کا موقع پایا وہ یوں کہ فقہ جو شرع میں ایک پسندیدہ نام ہے اسے خاص کردیا۔
{2}…علم: یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات، اس کی نشانیوں اور بندوں کے بارے میں اس کے افعال(کی حکمتوں ) کو جاننے پر بولا جاتا تھا یہاں تک کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وِصال پرملال پر حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’علم کے دس میں سے نوحصے چلے گئے۔‘‘  (۱) انہوں نے لفظِ علم کو الف لام کے ساتھ معرفہ ذکر کیا پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات کے علم کے ساتھ اس کی وضاحت کی۔ لوگوں نے تصرف کر کے اس میں بھی تخصیص کردی وہ یوں کہ انہوں نے اس لفظ کو اس کے ساتھ مشہور کردیا ہے جو فقہی مسائل میں مدمقابل سے مناظرہ کرنے میں مشغول ہو۔ چنانچہ، (مناظر کے بارے میں )کہا جاتا ہے کہ حقیقت میں عالم تو وہ ہے ۔ وہ علم میں مرد ہے اور اس کے برعکس جو اس فن میں مہارت نہیں رکھتا اور نہ اس میں مشغول ہوتا ہے اسے کمزوروں میں شمار کیا جاتا ہے، اہلِ علم کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاتا۔ یہ بھی تخصیص کے ذریعے تصرف ہے لیکن علم اور علما کے متعلق مروی فضائل اکثر ان کے بارے میں ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات، اس کے احکام وافعال اور صفات کا علم رکھتے ہیں ۔ لیکن اب مطلقاً اس کا اطلاق ان پر کیا جاتاہے جنہیں شرعی علوم میں سے کسی میں بھی مہارت حاصل نہ ہو بلکہ صرف اختلافی مسائل میں جھگڑنے کے طریقے جانتا ہو، اس کا شمار بڑے بڑے علما میں کیا جاتا ہے حالانکہ وہ تفسیر، احادیث اور علمِ مذہب وغیرہ سے جاہل ہوتا ہے اور کثیر طلبۂ علم کی ہلاکت وبربادی کا سبب یہی چیز ہے ۔
{3}…توحید:اب حالت یہ ہے کہ علمِ کلام اور مناظرہ کرنے کے طریقوں کو جاننے، مخالف کے اعتراضات توڑنے کے طریقوں کا احاطہ کرنے، کثرتِ سوال کے لئے بتکلف فصاحت کا اظہار کرنے، شبہات ڈالنے اور الزام تراشی کرنے کا نام توحید رکھ دیا گیا ۔حتی کہ بعض گروہوں نے اپنا لقب اہلِ عدل اور اہلِ توحید رکھ لیا ہے اور متکلمین کو علمائے توحید کہا جانے لگا ہے حالانکہ پہلے زمانے میں علمِ کلام کی خاص باتوں میں سے کسی چیز کو نہیں پہچانا جاتا تھا بلکہ وہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۸۸۱، ج۹، ص۱۶۳۔