Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
129 - 1087
	آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآنِ پاک میں غوروفکر کرنے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتیں شمار کرنے کو فقہ کا نام دیا۔
	 سردارِ مکۂ مکرمہ، سلطانِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ اس وقت تک کامل فقیہ نہیں بن سکتا جب تک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کی خاطر لوگوں کو ناراض نہ کر لے اور قرآنِ پاک کے لئے کئی وجوہ کا اعتقاد نہ رکھے۔‘‘  (۱)
	یہ حدیثِ پاک حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی موقوفاً مروی ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ ’’پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو تو اس سے بہت زیادہ ناراض ہو۔‘‘  (۲)
کامل فقیہ کی علامات:
	حضرت سیِّدُنافرقد سبخیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا، آپ نے اس کا جواب دیا توانہوں نے عرض کی: ’’فقہا تو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہیں ۔‘‘ توحضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اے فریقد!(یہ فرقد کی تصغیر ہے) تجھے تیری ماں روئے! کیا تو نے اپنی آنکھوں سے کسی فقیہ کو دیکھا ہے؟ فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت میں رغبت رکھتا ہو۔ اپنے دین کی سمجھ رکھتا ہو۔ پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی عبادت پر ہمیشگی اختیار کرتاہو۔ پرہیزگار ہو۔ مسلمانوں کی عزتوں کے درپے ہونے سے خودکو بچاتا ہو۔ ان کے مالوں پر نظر نہ رکھے اور عام مسلمانوں کا خیرخواہ ہو۔‘‘  (۳)
	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے یہ نہیں فرمایا کہ فتاویٰ کی فروعات کا حافظ ہو، میں نہیں کہتا کہ لفظِ فقہ ظاہری احکام کے فتاویٰ کو شامل نہیں بلکہ بطریقِ عموم وشمول اور بالتبع انہیں بھی شامل ہے لیکن اَسلاف اس کااطلاق اکثر علمِ آخرت پر کرتے تھے۔ اس تخصیص سے ان لوگوں کا فریب ظاہر ہو گیا جو دل کے احکام اور علمِ آخرت سے غافل ہوکر محض اسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب من یستحق ان یسمی فقیہا اوعالماً، الحدیث:۸۵۹، ص۳۰۵۔ 
2…جامع معمر بن راشد مع مصنف عبدالرزاق، باب العلم، الرقم:۲۰۶۴۰، ج۱۰، ص۲۳۹۔ تاریخ دمشق لابن عساکر، عویمر بن زید ابوالدرداء:۵۴۶۴، ج۴۷، ص۱۷۳۔ 
3…سنن الدارمی، المقدمۃ، باب من قال:العلم، خشیۃ وتقوی اللّٰہ ،الرقم:۲۹۴، ج۱، ص۱۰۱۔ قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۳۔