سب سے بڑا فقیہ:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابراہیم زہری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے پوچھا گیا کہ ’’اہلِ مدینہ میں بڑا فقیہ کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’وہ جو ان میں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ ڈرتا ہے۔‘‘(۱)
اس میں گویا فقہ کے نتیجے کی طرف اشارہ ہے اور تقویٰ علم باطن کا ثمرہ ہے نہ کہ فتاویٰ اور قضایا کا۔ چنانچہ، رسولوں کے سالار، محبوب پروردگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں کامل فقیہ کے بارے میں نہ بتاوں ؟‘‘ عرض کی گئی: ’’کیوں نہیں ۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’وہ جو لوگوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہ کرے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہ کرے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فیضانِ رحمت سے ناامید نہ کرے اور قرآنِ پاک سے کسی اور چیز کی طرف رغبت نہ کرے۔‘‘ (۲)
غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ عمل:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروِی ہے کہ تاجدار انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ صبح سے طلوعِ آفتاب تک بیٹھنا مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔‘‘(۳)
راوی فرماتے ہیں : یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یزید رقاشی اور زیاد نمیری کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’اس وقت ذکر کی محافل تمہاری محفلوں جیسی نہ تھیں ۔ تمہاری محافل تو ایسی ہیں کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے رفقا کو وعظ کرتا ہے اور بہت تیز بولتا ہے جبکہ ہم اپنی محفلوں میں بیٹھ کر ایمان کا تذکرہ کرتے، قرآنِ حکیم میں غور وفکر کرتے، دین سمجھتے اور دین کی سمجھ کے لئے خود پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کو شمار کرتے تھے۔‘‘(۴)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن الدارمی، المقدمۃ، باب من قال:العلم، الخشیۃ، وتقوی اللّٰہ، الرقم:۲۹۵، ج۱، ص۱۰۱۔
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب من یستحق أن یسمی فقیھا اوعالماً، الحدیث: ۸۵۸، ص۳۰۴۔
3…سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فی القصص، الحدیث:۳۶۶۷، ج۳، ص۴۵۲۔ کتاب الدعاء للطبرانی، باب فضل ذکراللّٰہ من صلاۃ الصبح الی…الخ، الحدیث:۱۸۷۸، ص۵۲۴۔
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۹۔