زمانے میں مطلقاً علمِ طریقِ آخرت، آفاتِ نفس کی باریکیوں کی معرفت، مفسداتِ اعمال، دنیا کی حقارت کا پورا احاطہ کرنے، آخرت کی نعمتوں سے اچھی طرح واقف ہونے اور دل پر خوف کے غالب رہنے کا نام فقہ تھا۔ اس کی دلیل اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا یہ ارشاد ہے:
لِیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَلِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِ(پ۱۱، التوبۃ:۱۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں ۔
لہٰذاجس فقہ سے ڈرانا اور خوف دلانا حاصل ہوتا ہے وہ یہی ہے نہ کہ طلاق، عتاق، لعان، سلم اور اجارہ کے مسائل کیونکہ ان سے ڈرانا اور خوف دلانا حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسی میں لگے رہنے سے دل سخت ہوتا اوردل سے خوفِ خدا نکل جاتا ہے۔ جیسا کہ اب ہم ان لوگوں کا حال دیکھتے ہیں جو صرف اسی کے ہوکر رہ گئے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
لَہُمْ قُلُوۡبٌ لَّایَفْقَہُوۡنَ بِہَا ۫ (پ۹، الاعراف:۱۷۹) ترجمۂ کنزالایمان: وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں ۔
اس میں ایمان کے معانی نہ سمجھنا مراد ہے، فتاویٰ کو نہ سمجھنا مراد نہیں ۔ میری زندگی کی قسم! لغت میں فقہ اور فہم دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور پہلے اور اب بھی عادتاً ان کا استعمال اسی معنی میں ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
لَاَانۡتُمْ اَشَدُّ رَہۡبَۃً فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنَ اللہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوۡنَ﴿۱۳﴾(پ۲۸،الحشر:۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک ان کے دلوں میں اللّٰہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں ۔
اس آیت میں ان کے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کم ڈرنے اور لوگوں کے دبدبے کو زیادہ جاننے کی وجہ ان کی قلت ِ فقہ بتایا۔ لہٰذا تم غور کرو کہ یہ فتاویٰ کی تفریعات یاد نہ کرنے کا نتیجہ ہے یا جو علوم ہم نے بیان کئے ان کے نہ ہونے کا۔ سرکارِ مدینہ، راحت ِقلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں جو لوگ وفد کی صورت میں حاضر ہوتے تھے ان کے لئے ارشاد فرمایا: ’’یہ اہلِ علم، دانا اور سمجھدار ہیں ۔‘‘(۱)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الفقیہ والمتفقہ، ذکر تقسیم امیر المؤمنین علی بن ابی طالب…الخ، الرقم:۱۷۸/۱۷۹، ج۱، ص۱۸۵۔ سنن دارمی، المقدمۃ، باب فی فضل العلم والعالم، الرقم:۳۲۹/۳۳۰، ج۱، ص۱۰۷۔