مطلع ہونا تمہیں ایسا نقصان پہنچائے گا جو تمہیں آخرت میں تباہ وبرباد کرڈالے گا مگر یہ کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اپنی رحمت سے نواز دے اور جان لو! جس طرح ماہر طبیب معالجات کے اسرار پر مطلع ہوتا ہے اور جو ان اسرار سے بے خبر ہو وہ انہیں بعید سمجھتا ہے اسی طرح انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دلوں کے طبیب اور حیاتِ اُخرویہ کے اسباب سے باخبر ہیں اس لئے تم اپنی عقل کو ان کے طریقوں پر ترجیح نہ دو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔
کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جب ان کی انگلی میں کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو ان کی عقل فیصلہ کرتی ہے کہ انگلی پر لیپ کردیا جائے جبکہ طبیب ِ حاذِق انہیں بتاتا ہے کہ اس کا علاج یہ ہے کہ انگلی کی دوسری جانب لیپ کیا جائے تو وہ اسے بہت زیادہ بعید سمجھتے ہیں کیونکہ وہ پٹھوں کے پھوٹنے اور نکلنے کی کیفیت اور ان کے بدن پرپھیلنے کی صورت سے ناواقف ہوتے ہیں ۔ اسی طرح طریقِ آخرت، شریعت کے طریقوں اور آداب کی باریکیوں کا معاملہ ہے اور جو عقیدے لوگوں کے لئے مقررہیں ان میں ایسے اسرار اور باریکیاں ہیں کہ ان کا احاطہ عقلِ انسانی کی قوت ووسعت سے باہر ہے۔ جیسا کہ پتھروں کے خواص میں بعض ایسی عجیب باتیں ہوتی ہیں جو اہل فن کو بھی معلوم نہیں ہوتیں ۔ یہاں تک کہ کوئی یہ نہیں جان سکا کہ مقناطیس لوہے کو کیوں کھینچتا ہے۔
عقائد واعمال کے عجائب وغرائب اور فوائد دواؤں اور جڑی بوٹیوں کے فوائد سے زیادہ اور عظیم ہیں ۔ یہ دلوں کی صفائی، پاکیزگی اور طہارت وتزکیہ کا فائدہ دیتے ہیں ۔ انہیں سنوارنے سے قربِ خداوندی میں ترقی ہوتی اورفضل الٰہی کی خوشبوئیں حاصل ہوتی ہیں ۔ جس طرح عقلیں ادویات کے فوائد کا ادراک نہیں کرسکتیں حالانکہ ان کا تجربہ بھی ہوسکتا ہے تو پھر ان عقائد واعمال کا ادراک کرنے سے بھی قاصر ہیں جو آخروی زندگی میں نفع دیں گے جبکہ ان کا تجربہ بھی نہیں کیا جاسکتا اور ان کا تجربہ محض یوں ہوسکتا ہے کہ کوئی مردہ ہمارے پاس آکر ہمیں بتا دے کہ یہ اعمال مقبول، نفع مند اورقربِ الٰہی کاذریعہ ہیں اور یہ اعمال رحمت ِ الٰہی سے دوری کاباعث ہیں ۔ اسی طرح عقائد کے بارے میں بھی بتا دے لیکن اس کی امید نہیں کی جاسکتی اس لئے تمہیں عقل کا اتنا فائدہ کافی ہے کہ وہ تمہیں رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سچا جاننے کی ہدایت دے اور ان کے اشاروں کے مقاصد سمجھائے۔ بس اس کے بعد عقل کا عمل ترک کر دو اور اتباع کو لازم کرلو۔ اسی اتباع اور تسلیم کرنے میں تمہاری سلامتی ہے۔ اسی لئے مدینے کے تاجدار، باذن پروردگار، دوعالم کے مالک ومختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بعض علم جہالت ہوتے ہیں اور بعض باتیں