بات کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ علم بعض لوگوں کے لئے نقصان دِہ ہوتا ہے جس طرح پرندے کا گوشت اور خوشگوار حلوے کی بعض اقسام دودھ پیتے بچے کو نقصان دیتی ہیں ۔ بلکہ کچھ لوگوں کا بعض باتوں سے جاہل رہنا ہی ان کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔
حکایت:موٹاپے کانقصان:
چنانچہ،منقول ہے کہ ایک شخص نے کسی حکیم کو شکایت کی کہ اس کی بیوی بانجھ ہے اولاد نہیں ہوتی۔ حکیم نے عورت کی نبض دیکھ کر کہا: ’’ تجھے اب بچہ پیدا کرنے کے لئے دوا کی ضرورت نہیں کیونکہ نبض دیکھنے سے پتا چلا ہے کہ تو 40 دن کے اندرمرجائے گی۔‘‘ وہ عورت بہت خوفزدہ ہوئی، اس کی زندگی تلخ ہو گئی، اس نے اپنے اموال نکال کر تقسیم کردئیے، وصیت کی اور کھانا پینا بھی چھوڑ دیا یہاں تک کہ 40روزکی مدت گزر گئی لیکن اسے موت نہ آئی، اس کا شوہر حکیم کے پاس گیا اور کہا: ’’وہ مری نہیں ۔‘‘ حکیم نے کہا: ’’ مجھے پتا ہے، اب تم اس سے جماع کرو وہ بچہ جنے گی۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’وہ کیسے؟‘‘ حکیم نے کہا: ’’ میں نے دیکھا کہ وہ موٹی تھی اور اس کے رحم(بچہ دانی) کے منہ پر چربی چڑھ گئی تھی(جو ولادت سے مانع تھی) تو میں نے جانا کہ یہ صرف موت کے خوف سے کمزور ہوسکتی ہے۔ اس لئے میں نے اسے موت سے ڈرایا یہاں تک کہ اب وہ کمزور ہوچکی ہے اور ولادت کی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔‘‘ اس حکایت سے معلوم ہوگیا کہ بعض علوم حاصل کرنے میں خطرہ ہوتا ہے نیز اس فرمانِ مصطفیٰ کا معنی بھی سمجھ میں آ گیا کہ ’’ ہم ایسے علم سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگتے ہیں جو نفع نہ دے۔‘‘
اتباعِ سنت میں سلامتی ہے:
اس حکایت سے عبرت حاصل کرو اور ان علوم کے متعلق بحث نہ کرو جنہیں شریعت نے مذموم قرار دیا اور ان سے منع کیا ہے۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی پیروی کو لازم پکڑلو اور اتباعِ سنت پر اکتفا کرو کیونکہ اتباع میں سلامتی ہے جبکہ اشیاء کے بارے میں بحث وتحقیق کرنے میں خطرہ ہے۔ اپنی رائے، عقل، دلیل اور برہان کے ذریعے زیادہ جھگڑا نہ کرو اور تمہارا یہ گمان کہ میں اشیاء کی ماہیت وحقیقت جاننے کے لئے ان کے متعلق بحث کرتا ہوں تو علم میں غور وتفکر کا کیا نقصان ہے؟ تو سنو! اس کا جو نقصان تمہیں پہنچے گا وہ بہت زیادہ ہے اور کتنی چیزیں ایسی ہیں کہ جن پر