Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
123 - 1087
 کرنا ہے اور انسان کے سب سے قیمتی سرمایہ یعنی عمر کو ایک ایسے کام میں ضائع کرنا ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ہے۔ 
بے فائدہ علم :
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیب ِ لبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کے آس پاس لوگ جمع تھے۔ استفسار فرمایا: ’’یہ کیا؟‘‘ لوگوں نے بتایا: ’’بہت بڑا عالم ہے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ کس چیز کا؟‘‘ عرض کی: ’’ شعر اور عربوں کے نسب کا۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’یہ ایسا علم ہے جس کا فائدہ نہیں اور ایسی جہالت ہے جس کا نقصان نہیں ۔‘‘(۱)
	ایک روایت میں ہے کہ ’’علم تو پختہ آیت، سنت ِ قائمہ یا عدل و انصاف پرمبنی فریضہ ہے۔‘‘  (۲)
	لہٰذاپتا چلا کہ علمِ نجوم اور اس جیسے دیگر علوم میں غور وخوض کرنا خطرہ مول لینا اور بے فائدہ جہالت میں غور و فکر کرنا ہے کیونکہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہ ہوکر رہے گا اس سے بچنا ممکن نہیں ۔ لیکن علمِ طب کا معاملہ اس کے برعکس ہے اس لئے کہ اس کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے اکثر دلائل پر اطلاع مل جاتی ہے۔ اسی طرح تعبیر کا معاملہ بھی علمِ نجوم کے برعکس ہے۔ اگرچہ یہ بھی تخمینی (قیاسی) ہے لیکن یہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔لہٰذا اس میں کوئی خطرہ نہیں ۔
	تیسری وجْہ: ایسے علم میں غور وخوض کرنا جس میں غور وخوض کرنے والے کو کوئی علمی فائدہ حاصل نہ ہو، یہ اسی کے حق میں برا ہے۔ جیسے علوم کی واضح اور عام فہم باتیں سیکھنے سے پہلے اس کی باریکیوں اور پوشیدہ باتوں کو سیکھنا اور اَسرارِ الہٰیہ میں بحث کرناکیونکہ فلاسفہ اور علمِ کلام والوں نے ان کو جاننے کی کوشش کی مگر وہ ان تک رسائی نہیں پاسکے اور انبیا ئے کرامعَلَـیْہِمُ السَّلَام اوراؤلیا ئے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ کے سوا کوئی بھی ان تک رسائی نہیں پاسکتا اور نہ ان کے بعض طریقوں کو جان سکتا ہے۔ اس لئے لوگوں پر واجب ہے کہ وہ ان کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنے سے باز رہیں اور جو شریعت نے بیان کیا اس کی طرف رجوع کریں ۔ توفیق یافتہ کے لئے اتناہی کافی ہے۔ کتنے لوگوں نے علوم میں غور وخوض کیا مگر انہیں نقصان ہوا ، اگر وہ ان میں غور و فکر نہ کرتے تو دین میں اس سے اچھی حالت پر ہوتے۔نیز اس
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب معرفۃ اصول العلم وحقیقتہ، الحدیث:۷۷۷، ص۲۷۷۔ 
2…سنن ابی داود، کتاب الفرائض، باب ماجاء فی تعلیم الفرائض، الحدیث:۲۸۸۵، ج۳، ص۱۶۴۔