Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
122 - 1087
ستارے حکمِ الٰہی ہی کے تابع ہیں ۔ کمزور ایمان والے کی مثال کہ طلوع آفتاب کے وقت جس کی نظرروشنی کا حصول ہوچیونٹی کی مانند ہے کہ اگر اسے عقل دی جائے اور وہ صفحے پر ہو اور اس پر مرتب ہونے والی خط کی سیاہی کو دیکھ رہی ہو تو وہ یہ اعتقاد رکھے گی کہ یہ قلم کا فعل ہے، اس کی نظر اُنگلیوں کو نہیں دیکھ سکے گی پھر انگلیوں سے ہاتھ پھر اس سے ہاتھ کو حرکت دینے کے ارادے پھر ارادے سے قدرت وارادے کے مالک کاتب پھر کاتب سے ہاتھ، قدرت اور ارادے کو پیدا کرنے والے کی طرف بھی نہیں پہنچے گی کیونکہ اکثر لوگوں کی نظر قریبی اور نیچے کے اسباب پر ٹھہر جاتی ہے اور مسبب الاسباب تک رسائی نہیں پاتی۔ یہ علمِ نجوم سے منع کرنے کا ایک سبب ہے۔
{2}…علمِ نجوم کے احکام محض تخمینی(یعنی قیاس پر مبنی ) ہوتے ہیں ۔ کسی خاص شخص کے بارے میں نہ یقینی حکم معلوم ہوتا ہے نہ ظنی۔ لہٰذا اس کی وجہ سے حکم لگانا جہالت سے حکم لگانا ہے ۔اس صورت میں علمِ نجوم کی مذمت وبرائی جہالت ہونے کے اعتبار سے ہے نہ کہ اس اعتبار سے کہ وہ علم ہے۔ حالانکہ یہ حضرتِ سیِّدُنا ادریس عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا معجزہ ہے جیسا کہ منقول ہے۔ لیکن اب یہ علم مٹ گیا اور ناپید ہوگیا ہے۔ نجومی کی بات اگرکبھی درست ہوتی بھی ہے تو وہ نادر اور اتفاقی ہے کیونکہ نجومی بسااوقات ایک سبب پر مطلع ہوتا ہے لیکن اس سبب کے بعد مسبَّب نہیں پایا جاتا جب تک کثیر شرائط نہ پائی جائیں اور وہ شرائط ایسی ہیں کہ جن کی حقیقتوں سے آگہی انسانی طاقت سے باہر ہے۔ لہٰذا اگر اتفاقاً اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قادرِ مطلق دوسرے اسباب کو بھی مقدَّر فرما دے تو نجومی کی بات درست ہوتی ہے اور اگر مقدَّر نہ فرمائے تو غلط اور یہ ایسا ہی ہے جیسے انسان جب دیکھتا ہے کہ بادل اکٹھے ہورہے اور پہاڑوں سے اٹھ رہے ہیں تو وہ اندازہ لگاکر کہتا ہے کہ آج بارش ہوگی لیکن اکثر سورج نکل آتا ہے اور بادل غائب ہوجاتے ہیں اور کبھی اس کے برعکس بھی ہوجاتا ہے۔ الغرض! صرف بادلوں کا ہونا بارش برسنے کے لئے کافی نہیں جب تک دوسرے اسباب معلوم نہ ہوں ۔ اسی طرح ملَّاح(کشتی بان) ہواؤں کے متعلق اندازہ لگاکر بطورِ عادت کہہ دیتا ہے کہ کشتی سلامت رہے گی حالانکہ ان ہواؤں کے کچھ مخفی اسباب بھی ہیں جن کی اسے خبر نہیں جس کی وجْہ سے کبھی اس کا اندازہ ٹھیک ہوتا ہے اور کبھی غلط۔ اسی وجْہ سے مضبوط اور قوی(ایمان والے) شخص کو بھی علمِ نجوم سیکھنے سے روکا گیا ہے۔
{3}… علم نجوم کا کوئی فائدہ نہیں ، اس کی کم از کم حالت یہ ہے کہ یہ ایک فضول اور بے مقصد بات میں غور وخوض