Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
121 - 1087
{2}…احکام: علم نجوم کا حاصل، اسباب کو دیکھ کر واقعات کا اندازہ لگانا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے طبیب نبض دیکھ کر عنقریب پیدا ہونے والے مرض کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے اور یہ اس بات کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے کہ مخلوق کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عادت اور سنّت ِ جاریہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود شریعت نے اس کی مذمّت بیان کی۔ چنانچہ، سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تقدیر کی بات ہو تو خاموش ہوجاؤ اور جب ستاروں کا ذکر ہو تو خاموش رہو اور جب میرے صحابہ کے بارے میں گفتگو ہو تب بھی چپ رہو۔‘‘  (۱)
	ایک روایت میں ہے کہ ’’مجھے اپنے بعد امت پرتین چیزوں کا خوف ہے:(۱) ائمہ کے ظلم (۲) ستاروں پر ایمان لانے اور (۳) تقدیر کے جھٹلائے جانے کا۔‘‘  (۲)
	امیرالمومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ستاروں کا صرف اتنا علم حاصل کرو جس سے خشکی اور تری میں راہ پا سکو۔‘‘  (۳)
علمِ نجوم سے ممانعت کی وجوہات:
	علمِ نجوم سے منع کرنے کی تین وجوہات ہیں :
{1}…یہ اکثر لوگوں کے لئے نقصان دِہ ہوتاہے یوں کہ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ ستاروں کی گردش کے نتیجے میں یہ حالات پیدا ہوتے ہیں تو ان کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ستارے ہی مؤثر ہیں اور یہی معبود ہیں جو کائنات کا نظام چلاتے ہیں کیونکہ یہ معزز آسمانی جواہر ہیں ، ان کی تعظیم دل میں بیٹھ جاتی ہے پھر دل انہی کی طرف متوجہ رہتا اور خیر وشر کے آنے یا نہ آنے کو انہی کی جانب سے تصوُّر کرتا ہے ۔ پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر دل سے مٹ جاتا ہے کیونکہ کمزور ایمان والے کی نظر اسباب ووَسائل پر ہی ہوتی ہے جبکہ مضبوط ایمان والا عالم جانتا ہے کہ سورج، چاند اور 
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۴۲۷، ج۲، ص۹۶۔ جامع بیان العلم وفضلہ، باب العبارۃ عن حدود علم الدیانات، الحدیث:۸۳۳، ص۲۹۷۔ 
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب العبادۃ عن حدود علم الدیانات، الحدیث:۸۳۴، ص۲۹۸۔ معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم الاصبہانی، الحدیث:۲۰۵۷، ج۵، ص۳۲۔ 
3…جامع بیان العلم وفضلہ، باب العبارۃ عن حدود علم الدیانات، الحدیث:۸۲۸، ص۲۹۶۔ المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الادب، فی تعلیم النجوم ما قالوا فیھا، الحدیث:۴، ج۶، ص۱۲۹۔