علم ہونے کے برا نہیں لیکن چونکہ یہ علم لوگوں کو نقصان دینے اور برائی پہچانے ہی کا ذریعہ ہے اور برائی تک پہنچانے والی شے خود بری ہوتی ہے ۔لہٰذایہ جادو کے براعلم ہونے کا سبب ہے۔
جھوٹ بولناکیسا؟(۱):
یونہی جو شخص کسی ولی کو شہید کرنے کے درپے ہو اور ولی کسی جگہ چھپ جائے پھر ظالم کسی سے اس کے متعلق پوچھے تو اسے اس کے بارے میں نہ بتانا جائز ہے بلکہ اس موقع پر خلاف واقع بات بولنا واجب ہے حالانکہ اس جگہ کا بتا دینا راہ دکھانا اور کسی چیز کا پتا بتانا ہے لیکن چونکہ یہ نقصان کا ذریعہ ہے اس لئے برا ہے۔
دوسری وجہ: بعض اوقات علم اپنے صاحب کو اکثر نقصان دیتا ہے جیسا کہ علمِ نجوم، یہ فی نفسہٖ(یعنی اپنی ذات کی وجْہ سے) برا نہیں کیونکہ اس کی دوقسمیں ہیں :
{1}…حساب:اسے قرآنِ پاک نے بھی بیان کیا ہے کہ سورج اور چاند کا چلنا حساب سے ہے۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿۪۵﴾ (پ۲۷، الرحمٰن:۵)
ترجمۂ کنزالایمان: سورج اور چاند حساب سے ہیں ۔
ایک اورمقام پر فرمایا:
وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوۡنِ الْقَدِیۡمِ ﴿۳۹﴾ (پ۲۳، یٰس :۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال(ٹہنی)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلد 3صفحہ 517پر صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اس میں گناہ نہیں ۔ ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے ، جب ظالم ظلم کرنا چاہتا ہو اس کے ظلم سے بچنے کے لئے بھی (جھوٹ بولنا)جائز ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ دومسلمانوں میں اختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صلح کرانا چاہتاہے ، مثلاًایک کے سامنے یہ کہہ دے کہ وہ تمہیں اچھا جانتاہے ، تمہاری تعریف کرتا تھا یا اس نے تمہیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہو جائے اور صلح ہو جائے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی (بیوی) کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلاف واقع کہدے۔