باب نمبر 3: ان مذموم علوم کابیان جنہیں لوگ اچھا
سمجھتے ہیں
اس باب میں بیان ہو گا کہ بعض علوم برے کیوں ہیں ؟ اور یہ کہ بعض علوم مثلاً فقہ، علم، توحید، تذکیر اور حکمت کے نام تبدیل ہوگئے ہیں اور علومِ شرعیہ کس قدَر اچھے ہیں اور کس قدَر برے؟
پہلی فصل: بعض علوم کے مذموم ہونے کاسبب
شاید تم کہو کہ علم کسی چیز کو اس طرح جان لینے کا نام ہے جیسی وہ ہے اور علم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی صفات میں سے بھی ہے پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایک چیز علم بھی ہو اور بری بھی؟ تو یادرکھو! علم کو علم ہونے کی وجْہ سے برا نہیں کہا جاتا بلکہ بندوں کے حق میں تین میں سے ایک وجْہ سے برا ہوتا ہے۔
پہلی وجہ: یہ ہے کہ علم جس کے پاس ہوتا ہے وہ اس کے لئے یا اس کے سوا کسی دوسرے کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے جیسا کہ جادو اور طلسمات کی برائی بیان کی جاتی ہے حالانکہ یہ حق ہے کیونکہ قرآنِ حکیم نے اس کی گواہی دی ہے اور یہ میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کا ذریعہ ہے۔ رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بھی جادو کیا گیا تھاجس کے سبب آپ بیمار ہوگئے تھے یہاں تک کہ حضرت سیِّدُنا جبریلعَلَـیْہِ السَّلَام نے اس کی خبر دی تو کنوئیں میں پتھر کے نیچے سے جادوئی اشیاء کو نکالا گیا۔(۱)
جادو کے برا ہونے کا سبب:
جادو علم ہی کی ایک قسم ہے جو جواہر کے خواص اور ستاروں کے طلوع ہونے کی جگہوں میں حسابی امور سے حاصل ہوتا ہے۔ ان جواہر سے اس شخص کی شکل وصورت پر اس کا پتلا بنایا جاتا ہے جس پر جادو کرنا ہوتا ہے پھر ستاروں کے طلوع کے خاص وقت کا انتظار کیا جاتا ہے اور وقت آنے پر اس پتلے پر کفریات اور خلافِ شرع بے حیائی کے کلمات پڑھے جاتے ہیں اور اس کے ذریعے شیطانوں سے مدد مانگی جاتی ہے۔ یہ سب کرنے کے بعد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عادت ِ جاریہ کے حکم سے جس شخص پر جادو کیا جائے اس پر عجیب وغریب احوال ظاہر ہوتے ہیں ۔ان اسباب کو جاننا بحیثیت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح البخاری، کتاب الطب، باب السحر، الحدیث:۵۷۶۶، ج۴، ص۴۰۔