Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
118 - 1087
ہمیشہ فکر آخرت میں مگن:
	حضرت سیِّدُنا شریک نخعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ’’ حضرت سیِّدُنا امام اعظمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم اکثر خاموش رہتے، ہمیشہ فکر ِ آخرت میں مگن رہتے اور لوگوں سے بات چیت کم کرتے تھے۔‘‘(۱)
	یہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے علمِ باطن اور دین کے اہم امور میں مشغول رہنے پر واضح دلائل ہیں کیونکہ جسے خاموشی اور زہد عطا کیا گیا بے شک اسے سارا علم عطا کردیا گیا۔ تینوں ائمہ کے یہ مختصر احوال ہیں ۔
مناقب ِ امام احمد بن حنبل اور امام ثوری :
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل اور حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا کے متبعین مذکورہ تینوں ائمہ کے مقلدین سے بہت کم ہیں اور حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے مقلدین حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کے مقلدین سے بھی کم ہیں لیکن ان دونوں کا زہد وتقویٰ مشہور ہے اور یہ کتاب انہی کے اقوال وافعال کی حکایات سے مزین ہے، مزید تفصیل کی حاجت نہیں ۔ اب آپ ان تینوں ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی سیرتوں میں غور کیجئے اور سوچئے کہ کیا دنیا سے کنارہ کشی کرنے کے یہ احوال ، اقوال ،افعال اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہر چیز سے بیگانہ ہوجانا فقہ کی جزئیات یعنی بیع سلم، اجارہ، ظہار، ایلاء اور لعان کو جاننے سے حاصل ہوتے ہیں یا یہ کسی اور علم کا نتیجہ ہیں جو اس سے افضل واعلیٰ ہے۔ پھر انہیں دیکھو جو ان کی اقتدا وپیروی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا جھوٹے؟
  ٭…٭…٭…٭…٭…٭
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الفقھاء لابن عبد البر، یحیٰی بن سعید القطان، ص۱۳۱۔