آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے نماز فجر ادا کی پھر کپڑے سے منہ چھپا لیا اور کوئی بات نہ کی۔ حسن بن قحطبہ کا قاصد مال لے کر حاضر ہوا تو حضرتِ سیِّدُناامام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَمنے اس سے بھی کوئی بات نہ کی۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا:’’ یہ ہم سے بھی ایسے ہی بات کرتے ہیں یعنی یہ ان کی عادت ہے۔‘‘ پھرآپ نے مال لانے والے سے فرمایا: ’’ مال کی تھیلی گھر کے ایک کونے میں رکھ دو۔‘‘ اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اپنے گھر کے سامان کی وصیت فرمائی اور بیٹے سے فرمایا: ’’جب میراانتقال ہوجائے اور مجھے دفن کرچکو تو یہ تھیلی حسن بن قحطبہ کو دے آنا اور کہنا کہ یہ تمہاری امانت ہے جو تم نے ابو حنیفہ کے پاس رکھی تھی۔‘‘ آپ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے ایسا ہی کیا۔‘‘ حسن بن قحطبہ نے کہا: ’’تمہارے والد پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو، بے شک وہ اپنے دین کے معاملے میں بڑے حریص تھے۔‘‘(۱)
منصب و عہدہ قبول نہ کیا:
منقول ہے کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو عہدہ قضاکی ذمہ داری سونپی گئی تو فرمایا: ’’میں اس کے لائق نہیں ۔‘‘ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ’’اگر میں سچا ہوں تو واقعی اس عہدے کے لائق نہیں اور اگر جھوٹا ہوں تو جھوٹا شخص قاضی بننے کے ویسے ہی لائق نہیں ہوتا۔‘‘ (۲)
طریقِ آخرت کے عالم:
حضرت سیِّدُنا امام اعظم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم طریقِ آخرت اور امورِ دین کاعلم بھی رکھتے تھے۔ معرفت الٰہی بھی حاصل تھی ۔ اس پر آپ کا خوف خدا اور دنیا سے بے رغبتی دلالت کرتے ہیں ۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا ابن جریج رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا بیان ہے کہ ’’ مجھے حضرت سیِّدُنا امام اعظمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بہت زیادہ خوف رکھتے ہیں ۔‘‘ (۳)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقہاء لابن عبدالبر، ذکر طرف من فطنۃ ابی حنیفۃ، ص۱۶۹۔
2…السنن الکبری للبیھقی، کتاب آداب القاضی، باب کراھیۃ الامارۃ…الخ، الرقم:۲۰۲۳۷، ج۱۰، ص۱۶۸۔
3…الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقھاء لابن عبد البر، قول الشافعی فیہ، ص۱۳۵۔