زہد وتقویٰ:
حضرت سیِّدُنا ربیع بن عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ’’ مجھے یزید بن عمر بن ہبیرہ نے حضرت سیِّدُنا امام اعظم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کو بلانے کے لئے بھیجا تو میں انہیں بلا لایا، اس نے آپ کو بیت المال کا حاکم بنانا چاہا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے انکار پراس نے آپ کو 20کوڑے لگوائے۔‘‘ (۱)
پس تم غورکروکہ حضرت سیِّدُنا امام اعظمعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے اذیت تو برداشت کرلی لیکن عہدہ قبول نہ کیا۔
آخرت کی سزا پر دنیاوی سزا کو ترجیح:
حکم بن ہشام ثقفی کا بیان ہے کہ مجھے ملک شام میں حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے بارے میں بتایا گیاکہ آپ لوگوں میں سب سے بڑے امانت دار تھے۔ حاکم وقت نے چاہا کہ آپ اس کے خزانوں کی کنجیوں کے ذمہ دار بن جائیں ورنہ آپ کو کوڑے لگوائے جائیں گے لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے عذابِ الٰہی کے مقابلے میں دنیاوی سزا کو اختیار کرلیا۔ (۲)
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس حضرت سیِّدُنا امام اعظم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کا تذکرہ ہوا توانہوں نے فرمایا: ’’ تم ایسے شخص کاتذکرہ کرتے ہو جس پر دنیا تمام مال واسباب کے ساتھ پیش کی گئی لیکن اس نے پھر بھی اسے قبول نہ کیا۔‘‘ (۳)
10ہزار درہم قبول نہ کئے :
حضرت سیِّدُنا محمد بن شجاع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے ایک شاگرد نے بتایا کہ کسی نے استاذ صاحب سے کہا: ’’ خلیفہ ابوجعفر منصور نے آپ کے لئے 10ہزار درہم کا حکم دیا ہے۔‘‘ راوی کابیان ہے کہ اس پر آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ پھر جب وہ دن آیا جس میں مال دیا جانا تھا تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تاریخ بغداد، النعمان بن ثابت:۷۲۹۷، ج۱۳،ص۳۲۸۔الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقہاء لابن عبدالبر، ص۱۷۰۔
2…تاریخ بغداد، النعمان بن ثابت:۷۲۹۷، ج۱۳، ص۳۵۰۔
3…مرقاۃ المفاتیح، شرح مقدمۃ المشکاۃ:ترجمۃ الامام ابی حنفیۃ ومناقبہ، ج۱، ص۷۷۔