Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
115 - 1087
اس پر یہ روایت دلالت کرتی ہے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ میں خلیفہ ہارون الرشید کے پاس گیا تو اس نے مجھے کہا: ’’اے ابو عبداللّٰہ! آپ ہمارے پاس آیا کریں تاکہ ہمارے بچے آپ سے موطا پڑھیں ۔‘‘ میں نے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ امیر کو عزت دے! یہ علم آپ لوگوں سے نکلا ہے۔ اگر آپ اسے عزت دیں گے تو عزیز ہوگا اوررسوا کریں گے تو ذلیل ہوگا اور(ہاں ) علم کسی کے پا س نہیں آتا بلکہ لوگ علم حاصل کرنے جاتے ہیں ۔‘‘ خلیفہ نے کہا: ’’آپ نے سچ فرمایا۔‘‘ پھر اپنے بچوں سے کہاکہ ’’مسجد میں جاکر دیگر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر موطا سنا کرو۔‘‘  (۱)
سیِّدُنااِمام اَعظمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکرم کے فضائل و مناقب
	حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی عابد وزاہد، عَارف باللّٰہ، خوف خدا رکھنے والے اور اپنے علم سے رضائے الٰہی چاہنے والے تھے۔ آپ کی عبادت و ریاضت کااندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتاہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں :’’ حضرت سیِّدُنا امام اعظم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم صاحب ِ مروت اور کثرت سے عبادت کرنے والے تھے۔‘‘  (۲)
ساری رات عبادت:
	حضرت سیِّدُنا حماد بن ابو سلیمان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّانسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام اعظم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم ساری رات عبادت کیاکرتے تھے۔
	 مروی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ پہلے آدھی رات عبادت کیاکرتے تھے۔ایک دن راستے سے گزر رہے تھے کہ کسی کو یہ کہتے سنا کہ یہ ساری رات عبادت میں گزارتے ہیں ۔ پس اس کے بعد سے پوری رات عبادت کرنے لگے اور فرماتے : ’’ مجھے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ میرے بارے میں اس کی عبادت کے متعلق ایسی بات کہی جائے جو مجھ میں نہ ہو۔‘‘  (۳)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…آداب العلماء والمتعلمین، آداب العالم فی علمہ، ص۱۔ مرقاۃ المفاتیح، شرح مقدمۃ المشکاۃ، ج۱، ص۶۲۔ 
2…تاریخ بغداد، النعمان بن ثابت: ۷۲۹۷، ج۱۳، ص۳۵۲۔ 
3…تاریخ بغداد، النعمان بن ثابت:۷۲۹۷، ج۱۳، ص۳۵۳،۳۵۴۔