Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
114 - 1087
 لے لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔‘‘ یعنی تم مجھے اسی وجْہ سے مدینہ چھوڑنے پر پابند کرتے ہو کہ تم نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے تو(سنو!) میں مدینہ منورہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَعْظِیْمًا  پردنیاکو ترجیح نہیں دیتا۔
	یہ تھی حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کی دنیا سے بے رغبتی۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہکے علم اور شاگردوں کے دوردرازعلاقوں میں پھیل جانے کی وجْہ سے مختلف شہروں سے آپ کے پاس کثیر مال آنے لگا تو آپ اسے نیکی کے مختلف کاموں میں خرچ کر دیتے۔ یہ چیز آپ کے زہد اور دنیا سے محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ مال نہ ہونے کو زہد نہیں کہتے بلکہ زہد یہ ہے کہ دل میں مال کی رغبت نہ ہو۔
مدینے کی مٹی کا ادب و احترام:
	حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی بادشاہت میں زاہد تھے۔ حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق دنیا کو کتنا حقیر سمجھتے تھے اسے اس روایت سے سمجھئے کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کے دروازے پر خراسان اور ایک قول کے مطابق مصر کے عمدہ گھوڑے دیکھے ،ان سے خوبصورت گھوڑے میں نے کبھی نہیں دیکھے تھے تو میں نے عرض کی: ’’ یہ کتنے عمدہ ہیں ۔‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’ اے ابوعبداللّٰہ!‘‘ یہ میری طرف سے آپ کو ہدیہ ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ان میں سے کوئی آپ اپنی سواری کے لئے بھی رکھ لیں ۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہنے فرمایا: ’’ مجھے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ میں اس زمین کو جانور کے پاؤں سے روندوں جس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہیں ۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کی سخاوت دیکھو کہ ایک ہی بار میں سارا مال ہبہ کردیا اور مدینے کی مٹی کا کتنا ادَب واحترام کرتے تھے۔
پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے نہ کہ کنواں :
	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ علم سے محضاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا وخوشنودی کے طالب تھے اور دنیا کو حقیر جانتے تھے۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…الشفاء، الباب الثالث، ج۲، ص۵۷۔ جامع الاصول فی احادیث الرسول لابن اثیر، الباب الرابع فی ذکر الائمۃ، الامام مالک، ج۱، ص۱۲۱۔