زُہدوتقویٰ:
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے زہد پریہ روایت دلالت کرتی ہے کہ خلیفہ مہدی نے آپ سے پوچھا: ’’کیا آپ کا کوئی گھر ہے؟‘‘ فرمایا:’’نہیں ، لیکن میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں کہ میں نے حضرت سیِّدُناربیعہ بن ابی عبدالرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سنا کہ آدمی کا نسب ہی اس کا گھر ہے۔‘‘
میں چھوڑ کر مدینہ نہیں جاتا نہیں جاتا:
خلیفہ ہارون الرشید نے آپ سے پوچھا: ’’کیا آپ کا کوئی گھر ہے؟‘‘ فرمایا: ’’نہیں ۔‘‘ تو اس نے آپ کی خدمت میں تین ہزار دینار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ان سے گھر خرید لیجئے!‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے دینار لے کر رکھ لئے اور انہیں خرچ نہ کیا ۔جب خلیفہ ہارون الرشید مدینہ منورہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَعْظِیْماً سے جانے لگا تو اس نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ ’’آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہو گاکیونکہ میں نے عزم کیاہے کہ لوگوں کو موطاپر جمع کروں جس طرح امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں کو ایک قرآن پر جمع کیا تھا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: لوگوں کو صرف موطا پر اکٹھا کرنے کا تو کوئی جواز نہیں کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن مختلف شہروں میں چلے گئے وہاں انہوں نے احادیث بیان فرمائیں جس کی وجْہ سے اَب مصر کے ہر شخص کے پاس احادیث کا علم ہے اور مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ’’میری اُمت کا اختلاف رحمت ہے۔‘‘ (۱)اور رہا (مدینہ چھوڑ کر) تمہارے ساتھ جانا تو اس کی بھی کوئی صورت نہیں کیونکہ فرمانِ مصطفیٰ ہے کہ ’’مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ سمجھیں ۔‘‘ (۲)ایک روایت میں ہے : ’’مدینہ(گناہوں کے)میل کو ایسے چھڑاتا ہے جیسے بھٹی لوہے کا زنگ دور کرتی ہے۔‘‘ (۳) پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے خلیفہ ہارون الرشید سے فرمایا: ’’یہ رہے تمہارے دینار چاہو تو انہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع الاصول فی احادیث الرسول لابن اثیر، الباب الرابع فی ذکر الائمۃ، الامام مالک، ج۱، ص۱۲۱۔
2…صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ، الحدیث:۱۳۶۳، ص۷۱۰۔
3 …صحیح مسلم، کتاب الحج، باب المدینۃ تففی شرارھا، الحدیث:۱۳۸۱، ص۷۱۶۔ حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، الحدیث:۸۹۴۲، ج۶، ص۳۶۱۔