Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
112 - 1087
عالم کی شان:
	 حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کا یہ فرمان بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ میری موجودگی میں حضرت سیِّدُناامام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق سے 48مسائل پوچھے گئے جن میں سے 32کے بارے میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا:’’ میں نہیں جانتا۔‘‘ (۱)اور علم سے جس کا مقصد رِضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اورہو تو اس کا نفس اسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے بارے میں اس بات کا اقرار کرے کہ وہ نہیں جانتا۔
چمکتے ستارے:
	حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی جب علما کا تذکرہ کرتے تو فرماتے: ’’حضرت سیِّدُناامام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق خوب چمکتے ستارے ہیں اور مجھ پران سے زیادہ کسی کا احسان نہیں ۔‘‘ (۲)
کوڑے کھا کر بھی حدیث بیان کی:
	منقول ہے کہ ابو جعفر منصور نے حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کو مکرہ(یعنی مجبور کئے جانے والے) کی طلاق کے بارے میں حدیث بیان کرنے سے منع کیا پھر خفیہ طور پر کسی کو بھیجا کہ ان سے یہی سوال کرے تو آپ نے لوگوں کے مجمع میں بیان کردیا کہ جسے مجبور کیا جائے اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی (۳)تو ابوجعفر منصور نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو کوڑے لگوائے لیکن آپ نے حدیث بیان کرنا نہ چھوڑی۔ (۴)
	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جو شخص بھی حدیث بیان کرنے میں سچا ہوگا اور جھوٹ نہیں بولے گا اس کی عقل سلامت رہے گی کہ بڑھاپے میں نہ تواسے کوئی آفت پہنچے گی اور نہ ہی اس کی عقل میں کسی قسم کا فتور آئے گا۔‘‘  (۵)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…سیر اعلام النبلاء للذھبی، مالک الامام:۱۱۸۰، ج۷، ص۴۰۱۔ 
2…جامع الاصول فی احادیث الرسول لابن اثیر، الباب الرابع فی ذکر الائمۃ، الامام مالک، ج۱، ص۱۲۱۔ 
3…احناف کے نزدیک :طلاق واقع ہوجائے گی ۔(ماخوذ از بہارشریعت،ج۳،ص۱۹۴)
4…جامع الاصول فی احادیث الرسول لابن اثیر، الباب الرابع فی ذکر الائمۃ، الامام مالک، ج۱، ص۱۲۱۔ 
5…طبقات المحدثین لابن الشیخ الاصبہانی، الطبقۃ التاسعۃ، بقیۃ الطبقۃ التاسعۃ، الرقم:۷۴۰، ج۳، ص۵۱۔ الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع، باب تحری المحدث الصدق فی مقابلہ، الرقم:۱۰۱۵، ج۳، ص۱۷۱۔