Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
111 - 1087
سیِّدُنااِمام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِقکے فضائل ومناقب
	حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق بھی ان پانچ اوصاف سے متصف تھے۔ چنانچِہ، کسی نے ان سے عرض کی: ’’اے مالک!آپ طلب ِ علم کے بارے میں کیاکہتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن تم اس پر غور کرو جو صبح سے شام تک تمہارے لئے ضروری ہے اور اسے لازم پکڑ لو۔‘‘ (۱)
حدیث رسول کی تعظیم:
	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ علمِ دین کی بہت زیادہ تعظیم کیا کرتے تھے یہاں تک کہ جب حدیث بیان کرنے کا ارادہ کرتے تو پہلے وضو کرتے، چٹائی بچھاتے، اپنی داڑھی سنوارتے، خوشبو لگاتے پھر عزت ووقار کے ساتھ بیٹھ کر حدیث بیان کرتے۔ (۲) کسی نے اس کی وجْہ پوچھی توارشاد فرمایا:’’ میں پسند کرتا ہوں کہ حدیث رسول کی تعظیم کروں ۔‘‘ (۳) آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کاقول ہے کہ ’’علم زیادہ روایتیں بیان کرنے کا نام نہیں بلکہ علم تو نور ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔‘‘  (۴)
	حدیث ِ رسول کا یہ ادَب واحترام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے جلال کی معرفت میں کتنے مضبوط تھے۔
حصولِ علم دین سے مقصود:
	علمِ دین حاصل کرنے سے حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کا مقصد محض رِضائے الٰہی ہوا کرتا تھا۔ اس پران کایہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ ’’ دین میں جھگڑا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔‘‘  (۵)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، الحدیث:۸۸۷۰، ج۶، ص۳۴۹۔ 
2…حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، الحدیث:۸۸۵۸، ج۶، ص۳۴۷۔ جامع الاصول فی احادیث الرسول لابن اثیر، الباب الرابع فی ذکر الائمۃ، الامام مالک، ج۱، ص۱۲۰۔ 
3…حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، الحدیث:۸۸۵۸، ج۶، ص۳۴۷۔ 
4…حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، الحدیث:۸۸۶۷، ج۶، ص۳۴۸۔ 
5…شعب الایمان للبھیقی، باب فی حسن الخلق، فصل فی الحلم والتؤدۃ، الحدیث:۸۴۸۰، ج۶، ص۳۵۴۔