Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
110 - 1087
کے لئے آپ اتنی زیادہ دعائیں مانگتے ہیں ؟‘‘ توانہوں نے فرمایا: ’’اے میرے بیٹے! حضرت سیِّدُناامام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی دنیا کے لئے آفتاب کی مانند اور لوگوں کے لئے عافیت ہیں ۔ پس تم دیکھو کہ کون ان دوباتوں میں ان کا نائب ہے۔‘‘(۱) 
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل فرمایا کرتے تھے کہ ’’جس نے بھی دوات کو ہاتھ لگایا اس پر حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کا احسان ہے۔‘‘  (۲)
	حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید قطان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ ’’ 40سال سے میں نے جو بھی نماز پڑھی اس میں حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے لئے ضرور دعا مانگی کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر علم کے دروازے کھول دئیے تھے اور انہیں علم میں پختگی کی توفیق مرحمت فرمائی تھی۔‘‘  (۳)
	ہم حضرتِ سیِّدُنا امامِ شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے انہی احوال کو بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ورنہ آپ کے احوال تو بیشمار ہیں ۔ یہاں ذکرکردہ بیشتر مناقب وفضائل ہم نے حضرت سیِّدُنا شیخ نصر بن ابراہیم مقدسیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کی کتاب سے نقل کئے ہیں جو انہوں نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے فضائل ومناقب میں تصنیف فرمائی ہے۔



{…علم سیکھنے سے آتا ہے…}
	فرمانِ مصطفیٰ:’’علم سیکھنے سے ہی آتاہے اورفقہ غوروفکرسے حاصل ہوتی ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطافرماتاہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں ۔‘‘    (المعجم الکبیر،الحدیث:۷۳۱۲،ج۱۹،ص۵۱۱)



ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۴۸۔ 
2…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱،ص۳۴۹۔
3…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱ ،ص۳۲۵۔